سی پیک۔ امریکی فوج کی نظر میں

سی پیک۔ امریکی فوج کی نظر میں

سی پیک۔ کا تعمیراتی کام زوروں پر ہے۔ کئی لاکھ چینی پاکستان میں آچکے ہیں۔ لیکن اتنے اہم اور حساس معاملے۔ 46ارب ڈالر کی خطیر رقم کے منصوبوں کا میڈیا میں۔ حکمراں حلقوں اور سیاسی حلقوں میں جتنا ذکر ہونا چاہئے۔ وہ نہیں ہورہا ہے۔ ’اطراف‘ واحد اُردو میگزین ہے۔ جو سی پیک کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے۔ امریکی فوج نے بھی اس پر تحقیق کی ہے۔’اطراف‘ کو یہ اہم اور حساس دستاویز اپنے ذرائع سے ملی ہے ۔ اس کی چوتھی قسط پیش خدمت ہے۔ اس سے آپ کو سی پیک کی اہمیت کا اندازہ بھی ہوگا اور امریکی عسکری نقطۂ نظر کا بھی۔ پڑھئے اور اپنی رائے دیجئے۔

ابھی تک امریکا نے نئے ملٹی لیٹرل ڈویلپمنٹ بنک(ایم ڈی پی) میں شمولیت اختیار نہیں کی کیونکہ اسے خوف ہے کہ یہ بنک مغربی دنیا کے بین الاقوامی اداروں کا مقرر کردہ بلند معیار حاصل نہ کرلے۔ امریکا کو خوف ہے کہ اس بنک میں مطلوبہ شفافیت نہیں ہے لیکن یہ بنک ایشیائی مارکیٹوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے جس کا ایک بڑا امیدوار جنوبی ایشیا خاص طور پر پاکستان ہے اور امریکی صدر اوباما نے اپریل 2015 میں جاپانی وزیراعظم کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا تھا کہ اگر کوئی ایسے ادارے وجود میں آتے ہیں جو عالمی بنک کی طرح کام کریں گے اور جس طرح آئی ایم ایف کام کرتا ہے؟ اس وقت ان ووٹوں کا وزن دیکھا جائے گا کہ ان اداروں کا سب سے بڑا کنٹری بیوٹر کون ہے اور آپ کو اس سلسلے میں شفافیت رکھنا ہوگی کہ یہ ادارے کس طرح کام کررہے ہیں؟ اگر یہ شفافیت نہیں ہوگی تو کئی باتیں ہوسکتی ہیں۔ نمبر ایک، رقوم کے استعمال میں بے قاعدگی ہوہوسکتی ہے یا یا اس کا اکاؤنٹنگ کا طریقہ اعلی معیار کا نہیں ہوگا اور ہمیں معلوم نہیں ہو سکے گا کہ ان پروجیکٹس کے لیے جاری ہونے والی رقم کا کیا ہوا؟ اور اگر حقیقت میں ایشیا انفرا اسٹرکچر بنک جو قائم کیا جارہا ہے اور اس میں ان تحفظات کی پابندی ہوتی ہے اور اچھے انفرا اسٹرکچر پر عمل ہوتا ہے تو قرض لینے والے ملکوں کو فائدہ ہوگا تو ہم سب اس کی حمایت کریں گے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو یہ ایک منفی بات ہے اور ہم ایسے کسی پروگرام کا حصہ نہیں بنیں گے۔کیونکہ جب یہ ممالک کسی ایشیائی ترقیاتی بنک سے کسی مشتبہ پروجیکٹ کے لیے رقم قرض لیتے ہیں جو کام نہیں کرتا تو یہ ممالک اس رقم کی واپسی کے ذمہ دار ہوتے ہیں‘‘۔
ایشیائی بنکوں کی حمایت کرنے والے دعوی کرتے ہیں کہ امریکا کی جانب سے ایسے بیانات منافقانہ ہیں کیونکہ اس سے پہلے بھی امریکہ کی جانب سے چین پر الزام تراشی کی جاتی رہی ہے۔ جبکہ اے آئی آئی بی چین کی قیادت کی بہترین مثال ہے اور امریکا کو اس کی حمایت کرنی چاہیئے۔اس کے علاوہ اس بنک میں چین کو اکثریتی ووٹ حاصل نہیں ہے۔اور اس طرح چین نے خود اپنے اثر و رسوخ پر پابندیاں قبول کی ہیں۔ کچھ بھی ہو،مغرب کے حامی رئیلسٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیجنگ کی جانب سے ملٹی لیٹرل ڈویلپمنٹ بنک جیسے اداروں کا قیام چین کی جانب سے امریکی کردار کو ترقی پذیر دنیا میں خاص طور پر جنوبی ایشیا اور بحر ہند میں ختم کرنے کی کوشش ہے ۔ایک ایشیائی سیکیورٹی تجزیہ کار جیف اسمتھ کا کہنا ہے کہ ’’چین اب امریکی ویٹو کی حدود سے باہر سرگرم عمل ہے اور یک طرفہ طور پر بین الاقوامی نظام کو تبدیل کرنے کا اہل ہے۔اے آئی آئی بی چین کو منافع کا یسا سلسلہ عطا کرتا ہے جس سے پورے ایشیا میں اسے سیاسی اور اقتصادی برتری حاصل ہوگی اور چین اپنی کرنسی یوان کو ایک بین الاقوامی ریزروکرنسی کا درجہ دلوانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ اگر چین اپنی کوششوں میں کامیاب ہوتا ہے تواس کے معنی یہ ہوں گے کہ چین کی جنوبی ایشیا میں حکمت عملی کامیاب ہوگئی‘‘۔
رئیلسٹ ماہرین کی تنقید سے قطع نظر اے آئی آئی بی کے پس پشت چین کی ترغیبات کےخلاف کافی شہادتیں موجود نہیں ہیں اور چین کے خلاف الزام تراشی میں کوئی وزن نہیں۔
نتائج:
اس باب میں میں نے ’بیلٹ اینڈ روڈ پہل کاری‘ جو جنوبی ایشیا کے لیے مخصوص ہے، کے پس پشت چین کی ترغیبات کے خلاف رئیلسٹ مفکرین کے تجزیہ پر مبنی شہادتیں پیش کی تھیں۔ یہ باب رئیلزم کے نظریات پر مختصر بحث کے ساتھ شروع ہوا تھا جس میں چینی کارروائیوں کا احاطہ کیا گیا تھا۔دوئم، میں نے بیلٹ اینڈ روڈ پہل کاری کے چار پہلوؤں کی حقیقت پسندانہ توضیح کے بارے میں بھی شہادتیں پیش کیں۔اول، چین کے تعمیر کردہ اس انفرا اسٹرکچر کا بنیادی مقصد قدرتی وسائل کا ایسا محفوظ استعمال ہے جس کا منافع چین کو حاصل ہو؛ دوئم، نیا تعمیر کردہ انفرا اسٹرکچر اور اس کے بعد قائم کی جانے والی راہداریاں براہ راست چین کے اثر و رسوخ میں اضافے کا باعث ہوں گی؛ سوئم، ان سہولتوں کی تزویراتی /ْاسٹریٹیجک پوزیشن سے چینی اثر و رسوخ میں اس طرح اضافہ ہوگا اور اسے اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ چین کا حلقہ اثر بڑھے گا اور بھارت کو ہر طرف سے گھیر لے گا اور چہارم ،بیلٹ اینڈ روڈ پہل کاری کی اعانت میں چین کی سرکردگی میں بننے والا ملٹی لیٹرل ڈویلپمنٹ بنک برٹن وڈز سسٹم کو چیلنج کرنے کی چینی کوشش ہے۔اور اس طرح چین منتخب فنڈنگ کے ذریعہ بیلٹ اینڈ روڈ کے اسٹریٹیجک مفادات کو ترقی دے گا۔رئیلسٹ مکتب فکر کے مطابق چین خالص اپنے مفاد میں ہر کارروائی کررہا ہے اور اسے بین الاقوامی نظام کی کوئی پروا نہیں ہے(وہ بین الاقوامی نظام جو اس وقت مغربی طاقتوں کی مکمل گرفت میں ہے اور کسی دوسرے ملک کی یہ ہمت نہیں کہ وہ اس کی مخالفت کرسکے)۔ اب وقت ہی یہ بتا سکے گا کہ کیا جنوبی ایشیا میں چینی حکمت عملی ہر حال میں کامیاب ہے اور بین الاقوامی نظام کے لیے ایک چیلنج ہے۔اگلے باب میں ہم اس سلسلے میں لبرل مکتب فکر کی ترغیبات پر بحث کریں گے۔
IV ۔لبرل ترغیبات کا تجزیہ:
2011 میں چین کی اسٹیٹ کونسل کے انفارمیشن آفس نے ایک قرطاس ابیض شائع کیا جس میں بتایا گیا تھا کہ چین کی جانب سے جدید یت کی جانب پیش رفت کا مقصد پرامن ترقی کی مساعی ہیں۔ اس قرطاس ابیض کے شروع میں کہا گیا تھا کہ ’’عوامی جمہوریہ چین اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے کے آغاز اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے قیام کی 90 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک مرتبہ پھر دنیا کے سامنے یہ واضح کرتا ہے کہ پرامن ترقی اس کا تزویراتی انتخاب ہے تاکہ جدیدیت کا عمل شروع کیا جاسکے جس سے چین طاقتور اور خوش حال ملک بن سکے اور انسانی تہذیب کی ترقی کے عمل میں اپنا مثبت کردار ادا کرسکے۔جنوبی ایشیا میں چینی اقتصادی اور انفرا اسٹرکچر کے احیا کے ایک عشرے کے بعد بیلٹ اینڈ روڈ پہل کاری کے اعلان سے دو سال پہلے اس دستاویز میں چین کے تزویراتی اہداف کا اعلان کیا گیا۔ان اہداف کے مطابق ایک کثیر پہلو نظام بنایا جائے گا جس کا مقصد اقتصادی اتحاد، تعاون، اور ترقی کی حوصلہ افزائی ہوگا۔ 2015 میں بیلٹ اینڈ روڈ پہل کاری کے اعلان کے ساتھ پرامن ترقی کا سرکاری اعلان چینی کلچر اور اور اس تصور کا ارتقا تھا جس کا آغاز 1978 میں ہوا۔ اس کے ساتھ ہی چینی قیادت نے اس کی یقین دہانی کرائی کہ گزشتہ عشرے میں ہونے والی اپنی معجزاتی ترقی کو توسیع دینے کی کوشش کی جائے گی۔ جنوبی ایشیا میں انفرا اسٹرکچر ترقیات کے فروغ کے پس منظر میں 2000 ہی سے چینی حکومت نے لبرل ترغیبات کا مظاہرہ شروع کیا ۔بیلٹ اینڈ روڈ پہل کاری چین کی جانب سے پرامن ترقی کے فروغ کی کوششوں کو ظاہر کرتی ہے۔ اس سے دوسری پڑوسی ترقی پذیر اقوام کی اقتصادی اعانت مطلوب ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جن کی مغرب یا بھارت مدد کرنے کو تیار نہیں اور ان کی اقتصادی ترقی میں مخلص نہیں۔چنانچہ لبرل ترغیبات کو ریاستی ارادوں اور بیلٹ اینڈ روڈ کے نقشے پر زیر تکمیل پروجیکٹس کی بنیاد پر پرکھا نہیں جاسکتا۔ان ارادوں کی جانچ خطے میں کثیر جہتی اقتصادی اور سیاسی ترقی سے ہوتی ہے جن سے چین کے عسکری عزائم اور اثر و رسوخ ظاہر نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی جارحانہ دباؤ کا اظہار ہوتا ہے۔ ابھی تک چین نے بین الاقوامی اداروں اور قواعد کی پابندی کی ہے جو عالمگیریت کا احاطہ کرتے ہیں۔اس باب میں جنوبی ایشیا میں چین کے بیلٹ اینڈ روڈ پہل کاری کی توضیحات کا جائزہ لیا جائے گا۔لبرل ازم پر مختصر بحث کے بعد جو تین پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے میں لبرل دلائل پر فریم ورک استعمال کروں گا۔ اگلے سیکشن میں باب نمبر 2 میں زیر بحث بیلٹ اینڈ روڈ پہل کاری کے چار پہلوؤں کا لبرل تجزیہ کیا جائے گا۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا اس شہادت سے ایسا ظاہرہونا چاہیئے جس میں کثیر جہتی نمو، سمندری فوجی اڈوں کا قائم نہ کیا جانا(یعنی اسٹرنگ آف پرلز نظریہ کا استرداد) اور عالمی قواعد و ضوابط کی پابندی شامل ہو ۔
الف۔ لبرل ازم کی تعریف:
لبرل ترغیبات پر بات کرنے سے پہلے لبرل ازم کی وضاحت خاص طور پر چینی خارجہ پالیسی کے تعلق سے ہونا ضروری ہے۔جیسا کہ تعارفی با ب میں بحث کی گئی، لبرل ازم ان نظریات پر مبنی ہے جو ریاستوں کی بڑھتی ہوئی آزادی بذریعہ اقتصادی مبادلہ، عالمی اداروں، اور سماجی یا معاشرتی قواعد کی پابندی سے وجود پائے ۔ جیسا کہ اینڈریو موراوسک نے وضاحت کی ہے کہ لبرل ازم کے پیچھے مرکزی خیال ریاستوں اور ان کے اردگرد مقامی اور بالائے قومی معاشرے کے درمیان تعلق ہے جس میں ریاستوں کی ترجیحات پر مبنی سماجی عمل کے اثرات کی بنا پر سیاسی پالیسی کا تعین ہوتا ہے۔دوسری جانب رئیل ازم کا دعوی ہے کہ ریاستیں اپنے مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں جبکہ لبرل ازم کے مطابق قواعد اور ادارے کسی ریاست کی بین الاقوامی حکمت عملی کو عالمی برادری کی خواہش کے مطابق شکل عطا کرتے ہیں۔ اس باب میں لبرل ازم کے مکاتب فکر کے تین پہلوؤں پر بحث کی گئی ہے تاکہ بیجنگ کی ترغیبات اور پالیسی کا تجزیہ کیا جاسکے۔ اول، باہمی انحصار کسی ریاست کے رویے کو پابند کرتی ہے۔ لبرل ازم نظریہ کی وضاحت کرتے ہوئے موراوسک کہتا ہے کہ باہمی انحصار کا اسلوب یا پیٹرن یہ ہے کہ ریاست کا رویہ کچھ پابندیوں کی بنیاد پر وضع ہوتا ہے اور اسی بنیاد پر ترجیحات کا تعین ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ تصور کہ یہ باہمی انحصار چین کو اس کی کمیونٹی یعنی جنوبی ایشیا کی برادری(خاص طور پر پاکستان) کے مفادات کے ساتھ باندھ دے گا جو اس نظریہ کا مرکزی نکتہ ہے۔اس طرح چین جنوبی ایشیا میں ہر حالت میں کامیاب ہوگا۔ میں نے اگلے باب میں جنوبی ایشیا میں چین کی انفرا اسٹرکچر سفارت کاری کا جائزہ لیا ہے۔ چین کے اپنے جنوبی پڑوسیوں(سوائے بھارت ) کے ساتھ بے مثال اور گہرے تعلقات ہیں۔ان تعلقات کے نتیجے میں ان ملکوں کے درمیان خود انحصاریت پیدا ہورہی ہے جس کا سبب یکساں اقتصادی مقاصد اور مفادات ہیں۔اس کے نتیجے میں چین کی ترغیبات جنوبی ایشیا کے ملکوں کی برادری کے فریم ورک کے اندر برادری کے مفادات کی بنیاد پرترقی اور فروغ پاتی رہیں گی۔ اس شہادت کی مضبوطی کی جانچ کے لیے چین کے جنوبی ایشیا کے ساتھ تعلقات کی پختگی کا اندازہ لگانا ضروری ہے کیونکہ اسی سے مستقبل کے واقعات کا تعین ہوگا۔ہم نے اس کا جائزہ اگلے باب میں لیا ہے۔چنانچہ چین کی اقتصادی اور سیاسی بندش سے ہی یہ شہادت ملے گی کہ دونوں فریق یا شرکائے کار خوشحال ہیں اور اقتصادی ، مالی اور سیاسی آزادی کے راستے پر گامزن ہیں اور ان تعلقات کے فوائد سے مطمئن ہیں۔ دوئم کسی بھی ریاست کی جانب سے بین الاقوامی برادری سے وفاداری کا اظہار بین الاقوامی اداروں اور قواعد کی پابندی سے ہوگا۔ اس برادری کے اتحاد اور یہ کہ کمیونٹی چین کو بین الاقوامی امن اور بقائے باہمی کے راستے پر رہنے پر مجبور کر سکے گی، جسٹن ایس ہیمپسن۔جونز کا کہنا ہے کہ اس ریاست کی بین الاقوامی سرکاری تنظیموں(آئی جی اوز) میں سرکاری شراکت کی شہادت ہونی چاہیئے کیونکہ اسی طرح چین کو ایک حد میں رہنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔یہ یاد رہے کہ چین اپنا بین الاقوامی کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس کی شہادت اس کی خارجہ پالیسی سے بھی ملتی ہے۔ چین نے اپنی آئی جی اوز ممبر شپ سے غیر معمولی فائدہ اٹھایا اور وہ جانتا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا اسے نقصان ہوگا۔جنوبی ایشیا میں اس رویہ کی ایک مثال اے آئی آئی بی کا قیام ہے جو بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کی مدد بھی کرہا ہے اور دوسری جانب چین کو جبری اقدامات کرنے سے بھی روکے گا جس کا مظاہرہ ہونا ابھی باقی ہے۔ دلائل کے مطابق لبرل ترغیبات چین کے رویہ میں روک ٹوک کا سبب بنیں گی اور ساتھ ہی کوئی مالی یا سیاسی نقصان بھی نہیں ہونے دیں گی۔سوئم یہ کہ عالمی برادری کے اندر پیدا ہونے والی نئی قیادت کسی مکمل تنقیحی (ریویژنسٹ)ایجنڈے کی اجازت بھی نہیں دے گی ۔جان آئیکن بیری کے مطابق عالمی برادری کے اندر تبدیلیوں سے بین الاقوامی نظام کو کوئی خطرہ نہیں خواہ ان تبدیلیوں سے مغربی طاقتوں کے مفادات کچھ کمزور پڑ جائیں اور ترقی پذیر ملکوں کے اثرات میں اضافہ ہوجائے۔بین الاقوامی نظام کے خلاف جدوجہد کے معنی یہ ہیں کہ لبرل بین الاقوامی نظام کے بنیادی اصولوں سے انکار نہیں بلکہ اس کی حدود میں رہتے ہوئے زیادہ اختیارات اورقیادت کے حصول کی جدوجہد ہے۔ لازمی طور پر مالکوں یا محافظوں کی تبد یلی کا مطلب نظام کی تبدیلی نہیں۔ اس لیے یہ نظریہ نئے اداروں کے قیام کے ذریعہ ترغیبات کے تجزیہ میں اعانت کرے گا لیکن یہ تبدیلی ضرور آئے گی کہ مغرب کے زیر اثر اداروں(یعنی عالمی بنک اور آئی ایم ایف اور ان کے سرپرستوں)کی اجارہ داری کمزور پڑے گی۔ اسی طرح اس نظریہ کے تحت نئے اداروں کو استعمال کرنے کی چین کی خواہش اور اہلیت سے ترقی پذیر ملکوں کی آواز توانا ہوگی اور وہ مسائل حل ہوسکیں گے جو مغرب کے زیر اثر ادارے (مثلاً عالمی بنک اور آئی ایم ایف) حل کرنے میں ناکام رہے یا حل نہیں کرنا چاہتے۔
ب۔ بیلٹ اینڈ روڈ کی تائید میں لبرل دلائل:
باب نمبر II میں میں نے چین کی انفرا اسٹرکچر سفات کاری کے چار پہلوؤں کا تذکرہ کیا تھا۔ اول، یہ انفرا اسٹرکچر پورے خطے میں چین کے قومی مفادات کو آگے بڑھائے گا۔ دوئم، یہ انفرا اسٹرکچر چین اور اس کے پڑوسیوں کو سیاسی اور اقتصادی طور پر متحد کردے گا۔ سوئم بحری انفرا اسٹرکچر بحری اڈوں کے قیام کو ممکن بنائے گا۔ چہارم، مالیاتی ادارے جو بیلٹ اینڈ روڈ کی مدد کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں مغربی مالیاتی اداروں، اثرو رسوخ اور عالمی قواعد کو چیلنج کریں گے جن کے دائرہ کار میں جنوبی ایشیائی برادری ہوگی جس کے مغرب کے ساتھ رابطے ہیں۔ ابھی اس اثر و رسوخ کا تخمینہ لگانا قبل از وقت ہے جو ان پروجیکٹس کی تکمیل سے خطے میں پیدا ہوگا۔ان پروجیکٹس سے متعلق شہادت اور او بی او آر کے اعلان سے پیدا ہونے والے رجحانات چین کی گرانڈ اسٹریٹیجی کے پس پشت ترغیبات کے تجزیہ کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ مندرجہ بالا چاروں پہلوؤں سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کا انفرا اسٹرکچر جنوبی ایشیا میں کامیابی کا حامل ماحول فراہم کرتا ہے۔انفرا اسٹرکچر اور اس کے مددگار ادارے چین اور دیگر جنوبی ایشیائی ملکوں کے مابین اتحاد اور اتفاق پیدا کررہے ہیں۔ سمندر پار بحری اڈوں کے قیام کی تاحال کوئی شہادت نہیں ملی۔بیلٹ اینڈ روڈ انفرا اسٹرکچر اور اس کے مددگار ادارے موجودہ عالمی نظام کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔
1۔جو چیز چین کے لیے اچھی ہے وہ جنوبی ایشیا کے لیے بھی اچھی ہے:
چین کے لیے یہ سب اقتصادیات ہے۔گزشتہ تین عشروں میں شرح نمو 10 فی صد سالانہ رہی۔چینی مارکیٹ وسائل کی کثرت کا شکار رہی، صنعتی پیداوار اتنی زیادہ تھی کہ اس کی کھپت کا مسئلہ پیدا ہوا۔چین کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ 35 کھرب ڈالر زرمبادلہ کے ذخائر کو استعمال کرنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا تھا۔بیجنگ میں اس بڑھتی ہوئی معاشی مایوسی کو دور کرنے کے لیے مالدار مشرقی شہروں اور مغربی چین کے خشکی سے گھرے علاقوں کے درمیان اقتصادی ناہموار ی کے خاتمے کے لیے مختلف اقدامات شروع کیے گئے۔ بیلٹ اینڈ روڈ ایک عظیم حکمت عملی ہے جو چین اپنے مغربی خطوں کو باقی دنیا سے جوڑنے کے لیے اختیار کررہاہے۔او بی او آر کے ساتھ ممالک سے تعلقات قائم کرکے چین اپنے مغربی خطوں کو اقتصادی ترقی کے مواقع فراہم کرے گا اور اس سے صرف مغربی خطے نہیں بلکہ پورا ملک مستفیدہوگا

اس طرح مشرق سرمایہ کاری اور محنت کے وسائل کو اپنی جانب کھینچے گا اور یہ خطے او بی او آر کے ذریعہ چین اور دیگر ممالک کے درمیان ایک پل کی حیثیت اختیار کرلیں گے۔ اسی طرح چین کے مغربی خطے اپنی پہلی بین الاقوامی مارکیٹ پڑوسی جنوبی ایشیائی ممالک میں تلاش کرسکیں گے۔رئیلسٹ مفکرین چین کی اس کوشش کو شبے کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس طرح ایسے خطے وجود میں آئیں گے جو معاشی نا ہمواری کی بنا پر بڑے ملک پر انحصار کرنے پر مجبور ہوں گے لیکن لبرل مفکرین کے نزدیک یہ دو طرفہ عمل ہوگا جس سے چین اور جنوبی ایشیائی ممالک دونوں باہمی فائدہ اٹھائیں گے۔چین کا کہنا ہے کہ عالمی اقتصادی نظام میں عالمی طاقتوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ چھوٹے ممالک کی مدد کرتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ جبکہ چین اپنے چھوٹے پڑوسی ممالک کی مدد کرکے ان کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا چاہتا ہے۔ اس طرح اس نئے نظام سے چین اور اس کے پڑوسی جنوبی ایشیائی ممالک دونوں فائدہ اٹھائیں گے۔جنوبی ایشیائی ریاستیں باہمی احترام، دفاع اور احساس ذمہ داری کے ساتھ چین کے ساتھ معاشی تعلقات قائم کریں گی اور انہیں ہر طرح کی آزادی ہوگی کہ وہ مغرب کے ساتھ تعلقات رکھیں یا مشرق کے ساتھ۔چین کی جانب سے رضاکارانہ طور پر ترقی پذیر ملکوں کے ساتھ بیلٹ اینڈ روڈ پہل کاری کا مقصد اس خواہش کے سوا کچھ نہیں کہ یہ ممالک بھی ترقی کریں اور چین کے صنعتی مال کی کھپت کے لیے کھلی مارکیٹ بھی فراہم کریں۔چنانچہ چینی بنک سری لنکا اور بنگلہ دیش میں بندرگاہوں کی تعمیر کے لیے فنڈنگ فراہم کررہے ہیں کیونکہ انفرا اسٹرکچر کی عدم موجودگی ان ملکوں کی ترقی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔چین کے صدر چی نے جنوبی ایشیا میں راہداریوں کی تعمیر کے پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا تھاکہ چین پڑوسی ملکوں کے ساتھ روابط کی بحالی اور راستوں کی تعمیر کے ذریعہ ایسا ماحول تعمیر کرنا چاہتا ہے جس میں چین اور جنوبی ایشیا مشترکہ خوشحالی کے فوائد سے مستفید ہوسکیں گے۔اسی مقصد کے تحت چین اور جنوبی ایشیا کے درمیان روڈ اینڈ بیلٹ پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ فی زمانہ مشترکہ خوش حالی کا اظہار اقتصادی امداد، تجارتی تعلقات، اور انفرا اسٹرکچر کی ترقی سے ہوتا ہے۔مثال کے طور پر 2003 کے بعد چین کی برآمدات اس کے پڑوسی ملکوں بنگلہ دیش، میانمار، نیپال اور سری لنکا کے ساتھ دگنی ہوگئیں اور اب بنگلہ دیش کی درآمدات میں ایک چوتھائی حصہ چین کا ہے۔اس کے نتیجے میں چین اور ان ملکوں کے درمیان 20061502011 کے دوران تجارت 45 ارب ڈالر تک جا پہنچی۔اسی طرح دو طرفہ سرمایہ کاری 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی۔جبکہ 2005 سے 2010 کے درمیان دو طرفہ سرمایہ کاری 2.8 ارب ڈالر رہی۔بیلٹ اینڈ روڈ پہل کاری کے آغاز سے پہلے یہ اقتصادی نمو چین کے ارادوں کے مثبت پہلو کو نمایاں کرتی ہے۔چنانچہ چین کے خیال میں یہ مشترک خوش حالی بیلٹ اینڈ روڈ پہل کاری کے تحت بہت سے منصوبوں کی تکمیل کے سبب ممکن ہوئی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ انفرا اسٹرکچر خطے میں صرف معاشی خوش حالی کا سبب ہی نہیں بنتا بلکہ علاقائی استحکام کا سبب بھی بنتا ہے۔پاکستان کی مثال اس سلسلے میں سب سے بڑی ہے جہاں بلوچستان کے لاقانونیت کا شکار خطے میں 46 ارب ڈالر سے گوادر کی بندرگاہ اور دیگر پروجیکٹس کی تعمیر سے خوش حالی کا نیا دور شروع ہورہا ہے۔

پہلی مرتبہ بلوچستان کے وسط میں طویل ہائی وے کی تعمیر اور اس پر تجارتی کنٹینروں کے قافلے رواں دواں ہیں اور وہ دن دور نہیں جب یہ خطہ بد امنی کے بجائے اقتصادی ترقی کا مرکز بن جائے گا۔خطے میں جدید سہولتوں کی فراہمی سے نئے روزگار پیدا ہوں گے اور وہ نوجوان جن کو ہتھیار دے کر مجرمانہ سرگرمیوں اور دہشت گردی میں لگانا آسان تھا امن دشمنوں کا شکار ہونے کے بجائے اقتصادی سرگرمیوں میں مصروف ہوجائیں گے۔اس سلسلے میں چین سرد جنگ کے دوران اختیار کردہ امریکی حکمت عملی پر عمل کررہا ہے کہ اقتصادی عمل استحکام کا سبب بنتا ہے۔چنانچہ اس پالیسی کے تحت 2000 کے بعد سے جنوبی ایشیائی انفرا اسٹرکچرز کی تعمیر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے اور او بی او آر پیکیجز کے تحت مزید اربوں ڈالر جنوبی ایشیا میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال ہوں گے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انفرا اسٹرکچرز کی ترقی کے ذریعہ جنوبی ایشیائی مارکیٹوں تک توسیع چین کے اپنے قومی مفاد میں ہے اور اس کی شہادت موجود ہے کہ اس دوطرفہ اقتصادی سرگرمی کے نتیجہ میں چین کے پڑوسیوں کو بھی فائدہ ہوگا۔یونیورسٹی آف وسکنسن کی یو ایس آفس آف ساؤتھ ایشیا پالیسی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ان پروجیکٹس کی تکمیل سے نمو اور ترقی کے بیش بہا مواقع پیدا ہوں گے کیونکہ چین سے ہمہ اقسام کی برآمدات خطے کی جانب جائے گی دوسری جانب چین ان ملکوں میں براہ راست سرمایہ کاری کرے گا جس کے نتیجہ میں انفرا اسٹرکچر بہتر ہوگا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔چین اور جنوبی ایشیا کے ملکوں کے درمیان تجارت بڑھے گی اور ان ملکوں کی جی ڈی پی کی شرح نمو میں بھی اضافہہوگا۔ اس سے بیجنگ کی کارروائیوں کے حق میں مزید شہادتیں سامنے آئیں گی اور لبرل ترغیبات کا عمل جاری رہے گا۔
2 ۔انفرا اسٹرکچر: ایک مضبوط بندھن
اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ چین اور بھارت کے درمیان طاقت اور برتری کی جنگ جاری ہے۔1962 کی بھارت چین جنگ کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان کھنچاؤاور سخت کشیدگی رہی ہے۔چین اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوا ہے۔ اور ساتھ چین اور بھارت کے درمیان بھی تجارتی سرگرمیاں بڑھی ہیں لیکن بھارت جنوبی ایشیا کی مارکیٹوں میں چین کی آمد سے بری طرح خوف زدہ ہے کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ جنوبی ایشیا اس کا حلقہ اثر تھا لیکن چین اب اس حلقہ اثر کو اس سے چھین رہا ہے۔بیلٹ اینڈ روڈ پہل کاری سے چین اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات اور کھنچاؤ کم ہوسکتا ہے کیونکہ چین کی سارک میں شمولیت اور اقتصادی راہداریوں کی تکمیل خطے کے لیے فائدہ مند ہوگی۔ چین نے بھارت کو بھی بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹس میں شمولیت کی دعوت دی ہے اور وہ چاہتا ہے بھارت سمیت تمام جنوبی ایشیائی ممالک اس کے ساتھ شامل ہوں۔اس وقت اقتصادی راہداریاں زیر تعمیر ہیں جن میں پاکستان چین اقتصادی راہداری(سی پی ای سی) اور بنگلہ دیش بھارت چین میانمار اقتصادی تعاون (بی سی آئی ایم) شامل ہیں۔جیسا کہ باب نمبر II میں کہا گیا، یہ پروگرام چین اور دوسرے کھلاڑیوں کے درمیان دوطرفہ اتحاد کی ضمانت ہے۔مثال کے طور پر بی سی آئی ایم سے خطے کے عوام کو غیر معمولی اقتصادی فوائد ہوں گے اور اس کے نتیجہ میں سڑکوں کی تعمیر، تجارت اور چاروں شریک ملکوں کی کرنسی کے درمیان روابط قائم ہوں گے۔ بیلٹ اینڈ روڈ پہل کاری کی طرح اس سمجھوتے کے تحت کنمنگ سے کولکتا(کلکتہ) اور مانڈلے سے میانمار تک سڑک تعمیر ہوگی۔ لیکن بھارت بیلٹ اینڈ روڈ کے بارے میں تحفظات رکھتا ہے اور اسے اپنی سلامتی کے مسائل میں سے ایک مسئلہ تصور کرتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے بحر ہند میں چینی بحریہ کی بڑھتی ہوئی طاقت پر بھی تشویش ہے۔ چنانچہ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ چین جنوبی ایشیا میں بیلٹ اینڈ روڈ پہل کاری کے ذریعہ بین الاقوامی نظام میں تبدیلی لارہا ہے اور بھارت کو ہر طرف سے گھیرنے کی تکنیک استعمال کرکے بھارت امریکہ تعلقات کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔اس پس منظر میں بھارت نے بی سی آئی ایم میں پیش رفت کو ناصرف روک دیا ہے بلکہ سارک میں چین کی شمولیت کی مخالفت بھی کررہا ہے۔
سارک کا قیام 1985 میں عمل میں آیا اس کے اراکین میں بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، بھوٹان، مالدیپ، اور افغانستان شامل ہیں۔چین کو صرف آبزرور کا درجہ حاصل ہے لیکن سارک کے ممبر ممالک کی اکثریت بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹس کا حصہ ہے اور وہ چین کو مکمل ممبر بنانے کی حمایت کرتے ہں جن میں پاکستان سر فہرست ہے۔اگرچہ سارک اقتصادی سرگرمیوں میں اضافے کے لیے کافی کام کررہا ہے لیکن بھارت ممبر ملکوں کو چین کی جانب سے خطے میں 30 ارب ڈالر کی علاقائی انفرا اسٹرکچر میں سرمایہ کاری میں حصہ لینے سے روک نہیں سکتا۔ بیجنگ کی کوشش ہے کہ بھارت کی مخالفت کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان کچھ مشترک منصوبے جاری رہ سکیں۔چین کی کوشش ہے کہ وہ کسی منفرد سفارتکاری مہم کے ذریعہ بھارت کو رکاوٹیں ڈالنے سے روک سکے۔ چین کی کوشش ہے کہ وہ تاریخی حریفوں بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں کسی نہ کسی سطح پر توازن قائم کرے اور بھارت کی تشویش کو دور کرے۔اس سلسلے میں پہلا قدم چین کے بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام اور بھارت کے اپنے ’’ایکٹ ایسٹ ‘‘ کے درمیان مشترک نکات کی تلاش ہوگا۔بھارت اپنی مشرق کی جانب جھکاؤکی اس پالیسی کے تحت جنوب مشرقی ایشیا میں اسی طرح کے انفر ااسٹرکچر اور اقتصادی ترقی کے پروگرام شروع کررہا ہے۔ کیا دونوں ممالک کے درمیان ان دونوں پروگراموں میں کسی قسم کی قدر مشترک تلاش کی جاسکتی ہے؟ فی الحال اس سوال کا جواب نہیں ہے۔ بھارت اگر چاہے تو بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کی نوعیت کے پیش نظر علاقائی تعاون کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور بحر ہند کے خطے میں اپنی علاقائی لیڈر کی حیثیت برقرار رکھ سکتا ہے۔چنانچہ ایک بھارتی کالم نگار نے لکھا ہے کہ پڑوسی ملکوں میں بھارتی سرمایہ کاری چین کے حلقہ اثر کو کم کرنے میں مدد کرسکتی ہے اور بھارت اپنا بحر ہند میں علاقائی لیڈر کا کردار بھرپور انداز میں ادا کرسکتا ہے۔ اس طرح جنوبی ایشیا میں اس کا غلبہ بھی برقرار رہ سکتا ہے۔اس لیے جنوبی ایشیا میں انفرا اسٹرکچر کی ترقی سے باہمی تعاون اور اقتصادی نمو کے بہترین مواقع پیدا ہوں گے۔ان پروجیکٹس کی کامیابی سے بی سی آئی ایم اور سارک ممالک کو بھی فائدہ ہوگا اور تمام شرکائے کار ممالک کو یہاں یکساں درجہ حاصل ہوگا اور وہ مساوی طور پر معاشی ترقی کے فوائد حاصل کرسکیں گے۔
3۔میری ٹائم(بحری) انفرا اسٹرکچر سمندر پار اڈوں کے مساوی نہیں:
5 مئی 2015 کو عوامی جمہوریہ چین کی وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ چین کسی قسم کے سمندر پار بحری فوجی اڈے نہیں بنائے گا۔ چینی ترجمان نے کہا کہ چین کی دفاعی پالیسی قطعی قومی دفاع پر مرکوز ہے اور اس پالیسی کا مقصد واضح طور پر یہ ہے کہ چین کسی قسم کا عسکری غلبہ یا فوجی توسیع کا خواہش مند نہیں۔ یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ چین نے مختلف ملکوں میں بندرگاہوں کی تعمیر کے مقاصد کو قطعی تجارتی اور اقتصادی قرار دیا ہو۔چنانچہ بحر ہند کے خطے میں بندرگاہوں کی تعمیر مال تجارت کی سپلائی کے پروگرام کا حصہ ہے۔ تاہم مغربی ماہرین اسٹرنگ آف پرلز کے نظریہ کو سمندر پار بحری فوجی اڈوں سے مشروط کرتے ہیں۔ اس نظریہ کے تحت میریٹائم سلک روڈ کے ساتھ بندرگاہوں پر بحری فوجی اڈوں کی تعمیر جاری ہے اور اس کے ساتھ ہی یہاں معتدبہ تعداد میں فوج بھی رکھی جاسکے گی۔یہ نظریہ رئیلسٹ مفکرین کا پیش کردہ ہے اور وہ اسی بنیاد پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ چین کی تمام تر اقتصادی سرگرمی کی اصل اس کا عسکری غلبہ ہے۔بیلٹ اینڈ روڈ پہل کاری کے پیچھے بھی یہی مقصد ہے۔ اگرچہ رئیلسٹ مفکرین اپنے اس دعوے کی تائید میں کوئی ٹھوس شہادت پیش نہیں کرتے لیکن یہ کہتے ہیں کہ اب تک چین نے اگر بحری اڈے نہیں بنائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ آئندہ بھی نہیں بنائے گا۔ اس کے مقابلے میں اسٹرنگ آف پرلز کے مخالفین یہ دلیل دیتے ہیں کہ چین نے حال میں جہاں بھی بندرگاہیں بنائیں اور جو بحری سہولتیں فراہم کیں وہ صرف تجارت کی غرض سے ہیں اور ان پر ایسا انفرا اسٹرکچر تعمیر نہیں کیا گیا جو عسکری مقاصد کو پورا کرتاہو۔ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر چین نے کبھی ان بندرگاہوں کو عسکری مقصد کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی تو بہت بڑی غلطی کرے گا۔چنانچہ اسٹرنگ آف پرلز کے نظریہ کے خلاف تین دلائل دیے جاتے ہیں۔ اول، جنوبی ایشیا میں میزبان ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات اور سہولتوں کے استعمال کے لیے سفارت کاری زیادہ محفوظ نہیں۔ اس لیے چین کبھی بھی اپنے اعلی قیمتی اثاثے ایسی جگہوں پر نہیں رکھے گا جو نازک مقامات پر ہوں اور جنہیں جنگ کی صورت میں نشانہ بنانا آسان ہو۔جبکہ جن بندرگاہوں کی تعمیر چین نے کی ہے وہاں ایسی سہولتیں نہیں ہیں کہ انہیں جنگی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
( جاری ہے)

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

19 − twelve =