سیکورٹی

سیکورٹی

پروفیسر ڈاکٹر ارم خالد۔ سیکورٹی( سلامتی یا تحفظ) کی ماہرِ خاص ہیں۔ سیکورٹی صرف سرحدو کی نہیں۔وہ ہر ماہ ہمیں خبردار کرتی ہیں۔ پانی کی قلّت سے خطرات ہیں۔ خوراک کی سیکورٹی بھی درکار ہے۔ اب اس بار وہ سماجی ہم آہنگی کی طرف توجہ دلارہی ہیں۔ اور شہری سلامتی (Urban Security) کی خطرناک صورتِ حال سے آگاہ کررہی ہیں۔9/11 کے بعد پاکستان کے شہر جس عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا ہیں۔ اس کی طرف ریاست اور حکومت دونوں کو توجہ دینی چاہئے۔

اکیسویں صدی انسانی رویوں کی از سرِ نو تشکیل میں مصروف عمل ہے۔ یہ رویے بظاہر جن کی بنیاد تقسیم ، تفریق، منافرت، معاشرتی و معاشی درج بندی کے ساتھ ساتھ مذہبی، لسانی، سیاسی ناہمواریوں پر رکھی جارہی ہے۔ انھی رویوں کی منتقلی ثقافت بھی کہلائے گی اور نسلوں کو شدت پسندی اورانتہا پسندی کے نئے سبق بھی دے گی۔ اس صورتِ حال میں سب سے بڑی مشکل ریاست کے لیے ہے۔ کیوں کہ جدید ترین ٹیکنالوجی بھی سماجی رویے کو اپنے تابع نہیں کر سکتی۔ بلکہ جس طرح سے ریاستیں اپنے دفاع پر خرچ کرتی ہیں تاکہ اپنی سرحدوں کو محفوظ کر سکیں۔ اگر وہ ایسی جامع حکمتِ عملی سماجی آہنگی کو ترتیب دینے اور مضبوط کرنے پر بھی صرف کردیں تو معاشرے اندرونی مضبوطی کے ساتھ ملکی دفاع میں اہم کردار ادا کرسکیں گے۔
اکیسویں صدی میں جہاں ریاستیں عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ وہیں شہراور افراد بھی اپنی خدشات میں گھرے ہوئے ہیں۔ کیونکہ جس تیزی سے آبادی بڑھ رہی ہے۔ اس رفتار سے مسائل بھی ، مگر ان مسائل کوحل کرنے کی طرف مناسب توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ بے روزگاری، جرائم کی شرح میں اضافہ، امن و امان کے مسائل ، صحت اور تعلیم ،غرض صاف ہوا میسر نہیں کہ کوئی سانس بھر پور انداز میں لے سکے، صاف پانی نہیں عدم خوراک ایک اور بڑا مسئلہ ہے۔ غرض آج کی دُنیا کے شہر ہیں یا مسائل کی آمجگاہ ۔
فکری نشوونما بھی خلا میں نہیں ہوتی۔ جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں، اس کی نوعیت بدل رہی ہے۔ اُسی رفتار سے نئے نظریات بھی جنم لیتے ہیں۔ جن پر سوچ بچار دانشوروں کو مجبور کرتی ہے۔ کہ صورتِ حال کو نئے زاویوں سے پرکھا جائے۔ اور تدبر و فکر سے نئی راہیں کھولی جائیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک ہیں جہاں ان گنت مسائل اپنی شدت کے ساتھ موجود ہیں۔ وہاں شہروں میں بڑھتا ہوا عدم تحفظ کا کلچر حکومت کو اور حکومتی زعماء کو یہ دعوت دے رہا ے کہ ملک میں سماجی ہم آہنگی کی وہ فضا قائم کی جاے جو ہمارے افراد کو مطمئن کرسکے اور ہمارے شہروں کو دفاع۔
اربن سیکورٹی کا نظر یہ بنیادی طورپر افراد کو استحصال، تشدد، معاشرتی و معاشی ناہمواریوں سے بچاؤ کے ساتھ ساتھ انسانی ترقی کانام ہے۔ اس کا مقصد محض جسمانی تشدد سے بچاؤ نہیں بلکہ مرکز ، صوبے اور مقامی طورپر افراد کو نہ صرف تحفظ کی فراہمی بلکہ زندگی کے تمام تحفظات کو فراہم کرنا ریاست کی بنیادی اور اولین ذمہ داری ہے۔
ریاست کے فرائض کو اگر ہم تقسیم کرسکیں تو دیکھا جا سکتا ہے کہ ریاست کچھ انتظامی فرائض انجام دیتی ہے۔ جس میں حکومت کی ذمہ داری اولین ہے۔ اس انتظام و انصرام کے ذریعے ملک میں

قانون کی حکمرانی رکھی جاتی ہے۔ ادارے افراد کو پابند کرتے ہیں کہ قانون سب سے بالا تر ہے۔
اسی طرح فلاحی فرائض کے ذریعے ریاست پابند ہوجاتی ہے کہ افراد کو زندگی کی روزمرہ سہولیات کی فراہمی سے لے کر ہر طرح کے عدم تحفظ سے نجات دلوائے۔ ریاست کے بنیادی فرائض میں صحت ، تعلیم، روزگار کی فراہمی بھی شامل ہے۔ اگر کسی معاشرے بچے سڑکوں پر اوراسپتالوں کے دروازوں پر جنم لینے لگیں۔ تو ایسے معاشرے نہ اپنی انحطاط پذیری پر ریاست کے ذمہ داران کو محض سلامت کرسکتے ہیں۔ کیونکہ بے حسی اگر اتنی بڑھ جائے تو افراد کے مزاج اوررویے پھر اپنے بیانیے خود متعین کرتے ہیں۔
9/11 کے بعد جس طرح پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کی صورتِ حال میں تبدیلی رونما ہوئی۔ اُس سے ہر علاقہ بالعموم اورپاکستان کے شہر بالخصوص سماجی عدم استحکام، سروسز کی عدم فراہمی، اور مختلف النوع روایات کی منتقلی کا شکار ہو گے۔ اس سے شدت پسندی اور دہشت گردی دور دراز کے علاقوں سے نکل کر پاکستان کے شہروں میں منتقل ہوگئی، اگرچہ شہروں میں مزاحمتی حکمتِ عملیاں بھی نظرآئیں، مگر صورتِ حال نے بہت سے سوالوں کو جنم بھی دیا۔
دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں نے تین طرح سے شہروں کو متاثر کیا۔
*Growing Population
* The intimacy of the cities and the changing Character of Crime
*The Opportunities of innovations.
پاکستان میں بھی بہت سے مفکرین اربن سیکورٹی اور اس کو لاحق خطرات پر لکھ رہے ہیں۔ تاکہ پالیسی سازوں کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کرواسکیں۔ جیسا کہ ڈاکٹر حسن عسکری نے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا کہ قومی دفاع محض سرحدوں کو محفوظ کرنے تک محدود نہیں بلکہ اندرونی طورپر موجود وہ تمام مسائل جو کسی بھی ملک کو عدم تحفظ سے دو چار کردیں۔ ان پر توجہ لازم ہے۔ اسی طرح ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ پاکستان میں انتہا پسندی اور شدت پسندی میں شہر ، شہروں میں موجود بڑے تعلیمی ادارے، اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ، جس طرح شامل ہو رہے ہیں۔ ان کی بیخ کنی ضروری ہے۔
*پاکستانی معاشرہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا شکار ہو چکا ہے۔
*معاشی عدم استحکام سے انتہا پسندی میں بھرتی مسلسل جاری ہے۔
*معاشرے میں ہر فرد بلاتخصیص ، حکومتی ادارے، غرض ہر کسی کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
*یہ جنگ اپنی نوعیت کے لحاظ سے پیچیدہ ترین ہوچکی ہے۔ جس سے نبٹنے کے لیے نئی حکمتِ عملی چاہیے۔
اس صورتِ حال میں ہمارے شہر مزید عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں۔اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے کچھ سفارشات درج ذیل ہیں۔
*خطرات کی نشاندہی تاکہ ہر شہر کی حکمتِ عملی علیحدہ طریقے سے تیار کی جائے۔
*جامع اوردرست معلومات کی فراہمی اور فراہمی میں تسلسل۔
*میڈیا کے کردار سے متعلق حکمتِ عملی تاکہ یہ مانیٹر کیا جا سکے کہ کہاں صورتِ حال کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیاہے۔
*نئے قوانین جو صورتِ حال کے مطابق ہوں، ان کا اجراء اور قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانا۔
*مقامی پولیس کی کارکردگی پر بھرپور توجہ اورمسلسل تربیتی

پروگراموں کا انعقاد ۔
*پولیس کے کردار میں تبدیلی۔
*اقوام متحدہ کے پروگرام کے مطابق، شہروں کے کردار میں تبدیل جہاں افراد کو عدم تشدد، معاشرتی ہم آہنگی کی تربیت دی جاسکے۔
*پالیسی سازوں کی صلاحیتوں میں اضافے کے پروگرام شروع کیے جائے۔ تاکہ ادارے مضبوط ہوں۔
*افراد کی بجائے اداروں پر توجہ دی جائے تاکہ اصلاحات بنانے کے ساتھ عمل درآمد کو بھی یقینی بنایا جاسکے۔
پاکستان کے شہر روایت پسندی اور جدیدیت کے درمیان سفر طے کرنے کی کوشش میں بہت سے تضادات کا شکار ہوگئے۔ اس تغیراتی کشمکش نے معاشرے میں کرپشن، جرائم، سیاسی و معاشرتی رویوں کے تضاد، کی بدولت سیاست اور جرم کو اکٹھا کردیا۔ اس سے شہروں پر وہ لوگ قابض ہو گئے۔ جن کے ذاتی مفادات ان کو ملکی مفادا کے بارے یا معاشرے کی بہتری یا تبدیلی کے لیے سوچنے بھی نہیں دیتے۔ اس صورتِ حال کا نتیجہ یہ نکلا کہ افراد کی لاتعلقی انتہا کو پہنچ گئی۔ ذاتی مفاد پرستی، انا پرستی نے قوم کو ہجوم اور حکومتوں کی بُری کارکردگی نے اس ہجوم کو اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے۔ جہاں ہر فرد اپنے غلط کام کی توجیح دیتا ہے۔ اور بسا اوقات اس قدر شدت پسند ہو جاتا ہے کہ اس کی بھی ضرورت نہیں سمجھتا۔ پچھلے کچھ عرصے سے جس طرح پاکستان میں پڑھے لکھے افراد بھی اخلاقی تنزلی کا شکار ہیں۔ اور اب تو باقاعدہ طورپر مختلف شدت پسند گروہوں کا شکار نظر آتے ہیں۔ یہ پاکستان اور اس حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔
اربن سیکورٹی آج کے دور کی انتہائی اہم ضرورت ہے۔ محض کیمرے معاشروں کو محفوظ نہیں کرتے۔ وہ معلومات تک رسائی دیتے ہیں۔ حقیقی کام سماجی ہم آہنگی ہے۔ جو ملکی دفاع کو مضبوط کرسکتی ہے

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

5 × three =