اندرون کراچی کی لائبریریاں

اندرون کراچی کی لائبریریاں

نسرین شاہین سیلانی ہیں۔ ’اطراف‘ کی ابتدا سے قلمی سرپرست۔ اب کے ان سے اندرون کراچی کی لائبریریوں پر لکھنے کو کہا گیا۔ رنچھوڑ لائن گزدر آباد میں تو انہیں مایوسی ہوئی۔ لیکن فریئر ہال کی لائبریری سے بہت کچھ مل گیا۔ وہاں کے لائبریرین رانا مظہر حسین صاحب نے بہت تعاون کیا۔ شہر کے عین قلب میں اور ایک بڑے خوبصورت باغ کے ساتھ یہ لائبریری پڑھنے والوں کا انتظار کرتی ہے۔ اب اخبارات و رسائل مطالعے کے لیے دستیاب ہیں۔ کتابیں خستہ حال ہیں۔ علاج کی منتظر۔ اس خزانے کا تحفظ ضروری ہے۔ شہر کے مخیر اور علم دوست حضرات کو آگے آنا چاہیے۔

* نسرین شاہین کی تحقیق

’’لائبریری‘‘ انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ’’کُتب خانہ‘‘ لائبریری سے مراد ’’ایسی جگہ ہے جہاں علمی مواد (کتابی یا غیر کتابی) کا ذخیرہ بغرض مطالعہ یا حوالہ کے لیے باقاعدہ کسی تنظیم و ترتیب کے تحت رکھا جائے‘‘۔ کسی دانشور کا کہنا ہے کہ کسی بھی قوم کے مستقبل کا انحصار اس کے بامقصد اور معیاری نظام تعلیم و تربیت پر ہوتا ہے، کیونکہ زندگی کو بامقصد اور صحت مند خطوط پر استوار کرنے کے لیے تعلیم بہت اہم کردار ادا کرتی ہے اور تعلیم کا حصول درس گاہوں اور کُتب خانوں کا مرہونِ منت ہے۔
اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی معاشرے یا قوم کے افکار جاننا ہوں تو اس ملک کے تعلیمی اداروں اور کتب خانوں کا جائزہ لیا جائے۔ یہ ادارے جتنے بہترین ہوں گے، معاشرہ بھی معیار کے لحاظ سے بہترین ہوگا، اسی لیے زندہ اقوام نہ صرف ان کی حفاظت کرتی ہیں بلکہ ان کی ترقی و ترویج کے لیے بھی کوشاں رہتی ہیں۔ امریکا، جاپان اور یورپی ممالک کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان ممالک میں لائبریریز کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے۔ ان ترقی یافتہ ممالک کی حکومتوں نے کتب خانوں کو عوام کے لیے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی اکثریت کتب خانے جانا پسند کرتی ہے، انہیں مطالعے سے خاص لگاؤ ہے۔
لائبریری کلچر کے حوالے سے جب ہم پاکستانی معاشرے اور قوم کا جائزہ لیتے ہیں تو کافی افسوس ناک صورتحال سامنے آتی ہے۔ ہمارے ہاں لائبریری کلچر ختم ہورہا ہے اس لیے ہمارے ہاں کتب بینی یا مطالعے کیعادت بتدریج ختم ہوتی جارہی ہے۔ ہمارے نوجوان مطالعہ کرنے کو پسند نہیں کرتے اور اسے وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ نوجوانوں کے پاس انٹرنیٹ استعمال کرنے کے لیے تو بہت وقت ہوتا ہے لیکن ان کے پاس لائبریری جانے کیلئے وقت نہیں ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لائبریریاں ہیں کہاں؟ صرف نوجوانوں میں ہی مطالعے کا فقدان نہیں ہے۔ لائبریریوں کا فقدان بھی ہے۔ آخر لائبریریاں کہاں گئیں؟
یہ جاننے کے لیے کراچی کے قدیم علاقے رنچھوڑ لائن میں گزدر آباد کے علاقے میں سروے کرنے کے لیے ایک لائبریری کا رخ کیا تو پتہ چلا کہ یہ تو برسوں ہوئے بند ہوچکی ہے، جو ’’یوتھ پروگیسیو کونسل لائبریری‘‘ کے نام سے قائم تھی جس میں 10 ہزار کے قریب کتابیں مختلف موضوعات پر موجود تھیں۔ یہاں کتابیں جاری بھی کی جاتی تھیں جس کے لیے ممبران کو کارڈ بنوانا پڑتا تھا۔ لائبریری میں کتب پڑھنے کی سہولت بھی موجود تھی گو کہ یہ ایک کمرے پر مشتمل تھی جو کافی کشادہ، روشن اور ہوا دار تھا اور مطالعہ کرنے والوں کو ایک پرسکون ماحول میسر تھا۔ پھر بتدریج یہاں آنے والوں میں کمی آتی گئی اور لائبریری ویران ہوگئی۔ پھر یہ لائبریری اسی علاقے میں دوسری جگہ منتقل کردی گئی۔ مطالعے کے شوقین جو اب کم ہی رہ گئے تھے، یہاں بھی آنے لگے لیکن کچھ عرصے سے یہ لائبریری بند کردی گئی ہے۔ وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ کوئی مسئلہ ہوگیا ہے اس لیے لائبریری کو بند کرنا پڑا۔
لائبریری کے بند ہونے سے علاقے کی رہائشی وہ خواتین اور لڑکیاں اداس ہیں جو آج کے جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی مطالعہ کرنے کی شوقین ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ہمارے معاشرے میں ویسے ہی لائبریریاں کم رہ گئی ہیں اور لائبریری کلچر ختم ہورہا ہے، جس کی بڑی وجہ جدید ٹیکنالوجی کا غیر ضروری استعمال ہے۔ بچوں کو بچپن سے ہی گھروں میں مطالعے سے رغبت نہیں دلوائی جاتی۔ والدین بھی مطالعے سے دور بھاگتے ہیں۔ اس لیے وہ اپنے بچوں کو اس کی اہمیت سے آگاہ نہیں کرتے۔ ہمارے خیال میں اگر گھر میں ماحول مطالعے کا مل جائے، نو جوان بھی اس طرف راغب ہوں گے۔ اسکول ٹیچر عابدہ نے بتایا: میں سمجھتی ہوں کہ ہمارے ہاں ’کیبل کلچر‘ ان ہوگیا ہے اسی وجہ سے ’لائبریری کلچر‘ آؤٹ ہوگیا ہے۔ ہمارے علاقے میں قائم یہ واحد لائبریری تھی جو اب بند ہوچکی ہے اور یہ ایک افسوسناک بات ہے۔
رنچھوڑ لائن کے علاقے میں ہی بوہری پیر کے قریب بھی ایک لائبریری قائم تھی۔ جو اب بند ہوچکی ہے۔ یہ ایک کاروباری علاقہ ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اس لائبریری پر قبضہ ہوگیا ہے اس لیے بند ہوچکی ہے۔ اب یہاں ’’آفتاب آڈیو‘‘ شاپ قائم ہے۔ ظاہر ہے یہ ایک بہت ہی افسوسناک صورتحال ہے۔ ایک تو ہمارے ہاں ویسے ہی لائبریریوں کا فقدان ہے، دوسرے اِکا دُکا لائبریریاں موجود بھی تھیں تو انہیں بھی بند کردیا گیا ہے۔ چونکہ لوگوں میں بھی مطالعے کا رجحان نہیں رہا اس لیے بند ہوجانے والی لائبریریوں کے خلاف لوگ احتجاج بھی نہیں کرتے، انہیں احساس ہی نہیں ہوتا ہے کہ ان کا اور ان کی نسلوں کا کتنا بڑا نقصان ہورہا ہے۔ لائبریری کی عدم موجودگی سے علاقے اور محلے کے بچے منفی سرگرمیوں میں آسانی سے مبتلا ہوجاتے ہیں۔ لائبریریوں کی موجودگی بچوں اور نوجوانوں کو مطالعے کی جانب راغب کرتی ہیں اور انہیں مثبت سرگرمیوں سے وابستہ رکھتی ہیں۔ اس طرح لائبریریاں معاشرے کو سنوارنے کا فریضہ بھی انجام دیتی ہیں۔

لائبریری کلچر کے حوالے سے کراچی کے ایک اور قدیم اور اہم علاقے صدر میں قائم تاریخی اور اہم عمارت ’’فیریئر ہال‘‘ کی لائبریری کا سروے کیا۔ اس تاریخی عمارت میں قائم لائبریری جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ تو نہیں ہے البتہ اپنے روایتی انداز میں پوری شان کے ساتھ موجود ہے اور علم کے پیاسوں کی پیاس بجھانے کے لیے اپنی باہیں ’وا‘ کیے ہوئے ہے لیکن علم کے پیاسے کہاں ہیں؟ یہ لائبریری کی ویرانی بتا رہی تھی۔ لیکن اس کی تاریخ شان دار ہے۔
فریئر ہال کی عمارت سندھ کے ایک کمشنر سر ایچ بارٹلے ایڈورڈ فریئر کی صوبہ سندھ کیلئے دی گئی خدمات کی یاد میں تعمیر کی گئی تھی۔ 1844ء میں فوجی افسران کی تحصیل علم کے لیے ایک چھوٹے کتب خانے کی ضرورت محسوس کی گئی اس لیے اس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مطالعہ کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو سربارٹلے فریئر کی کوششوں سے 4 اکتوبر 1851ء میں جیم خانے کے ایک کمرے میں باقاعدہ جنرل لائبریری کا قیام عمل میں آیا۔ 1862ء میں جگہ کی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے علیحدہ عمارت کی تجویز پیش کی گئی جو کہ سربارٹلے ایڈورڈ فریئر کے نام سے موسوم کی گئی جس کو کراچی کی پہلی پبلک لائبریری ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور فریئر لائبریری کراچی میٹروپولیٹن کی بھی پہلی پبلک لائبریری ہے۔ فریئر ہال پبلک لائبریری جنوری 1851ء سے اگست 1859ء تک تعمیر کی گئی۔ فریئر ہال کی عمارت کی تعمیر 1863ء میں شروع ہوئی اور دو سال کے عرصے میں 1865ء میں یونانی فنِ تعمیر کے نمونے کی طرز پر تیار کی گئی اور اسی سال 10 اکتوبر 1865ء کو اس کا افتتاح اس وقت کے کمشنر سندھ ایس مینفلڈ نے کیا۔ بلڈنگ کا ڈیزائن کلیرویکنس نے وینیشن گوتھگ طرز پر تیار کیا گیا، اس کی تعمیری لاگت ایک لاکھ اسی ہزار روپے (1,80,000) آئی۔ جس میں سے ساڑھے 22 ہزار روپے عوامی عطیات سے اکھٹے ہوئے، سرکار کی طرف سے 10 ہزار روپے دیئے گئے اور باقی ایک لاکھ 47 ہزار 5 سو روپے کارپوریشن نے فراہم کیے۔
1851ء میں سر ایچ بارٹلے فریئر کی نگرانی میں فریئر ہال لائبریری کام کرتی تھی۔ 31 اکتوبر 1870ء کو جم خانہ (اسٹاف لائنز) کے زیر انتظام رہی۔ 19 اگست 1875ء کو یہ لائبریری میونسپل کارپوریشن کے حوالےکردی گئی۔

قیام پاکستان کے وقت کافی عرصہ بند رہی، جس کے بعد 10 دسمبر 1952ء کو کے ایم سی بلدیہ کراچی نے اس لائبریری کی ذمے داری لے لی، بلدیہ کراچی نے اسے اپنی تحویل میں لے کر دوبارہ کھولا اور اس کا نام لیاقت لائبریری اور میوزیم رکھ دیا گیا۔ اس زمانے میں ایک چھوٹے حصے پر لائبریری اور بقیہ حصے پر عجائب گھر قائم تھا۔ عجائب گھر کے نوادرات نیشنل میوزیم کراچی سمیت شفٹ ہونے کے بعد 1969ء میں اس عمارت کا باقی حصہ بھی لائبریری میں تبدیل ہوگیا۔ پھر 1971ء میں یہ محسوس کیا گیا کہ اس بلڈنگ کی حالت اطمینان بخش نہیں ہے۔ اس لیے لائبریری عارضی طور پر برانچ لائبریری میں شفٹ کردی گئی۔ عمارت کو محفوظ کرنے کے لیے دوبارہ منصوبہ بندی کی گئی جس میں ایک لاکھ کتابوں کے لیے گنجائش فراہم کرنا تھا۔ مرمت کا یہ مرحلہ 1978ء میں مکمل ہوا۔ اس وقت کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم عباسی نے اس کا افتتاح کیا۔
یہ کتب خانہ کئی ادوار سے گزرا، قیام کے وقت اس کا نام جنرل لائبریری، 1871ء میں اس کا نام کراچی میونسپل لائبریری اینڈ میوزیم، قیامِ پاکستان کے وقت اس کا نام کراچی میونسپل فریئر ہال لائبریری تھا، مگر ہر دور میں اس کی شہرت اور پہچان فریئر ہال کے نام ہی سے رہی۔ جو اس عمارت کا اصل مقام اور حق ہے۔ 1951ء میں پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے فریئر ہال کو لیاقت ہال کے نام سے موسوم کردیا گیا۔ فریئر ہال کی طرح لیاقت ہال لائبریری بھی شاندار تاریخ رکھتی ہے۔ یہ پاکستان کی قدیم ترین لائبریری ہے اور بہت سی عظیم شخصیات نے اسے استعمال کیا۔ لائبریری کے بہت سے ایسے پہلو ہیں جو اسے منفرد بناتے ہیں۔ اس کی عمارت منفرد تاریخ کی حامل ہے۔ اس لائبریری کا محل وقوع، کتابوں کا انتخاب اور عمارت غیر ملکی سیاحوں، تحقیق کاروں، مشہور شخصیات اور طالب علموں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔ کوئی اور لائبریری کتابوں کا ایسا ذخیرہ اور انتخاب نہیں رکھتی۔
’’لیاقت ہال لائبریری میں اس وقت ہر موضوع پر قریباً پچاس ہزار کتابیں موجود ہیں۔ یہ کتابیں مختلف زبانوں میں ہیں، جن میں اردو، انگلش، سندھی، عربی اور پنجابی شامل ہیں۔ 90 فیصد کتابیں ممبران کو پڑھنے کے لیے دی جاتی ہیں جبکہ نادر و نایاب کتابیں تحقیق کے لیے دستیاب ہیں۔ یہاں پرانے اخبارات کا ریکارڈ بھی موجود ہے اور صدیوں پرانے 500 سے 600 سال پرانے قلمی نسخے بھی موجود ہیں اور لائبریری میں موجود تقریباً ایک صدی پرانی کتابیں خستہ حال ہونے کے سبب تقریباً ناقابلِ مطالعہ ہوگئی ہیں اور علم کے خزانے سے مالا مال یہ کتب خانہ اب زیادہ تر اخبارات پڑھنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔‘‘ لیاقت ہال لائبریری کے لائبریرین رانا مظہر حسین صاحب نے ہمیں مذکورہ معلومات فراہم کیں جو پاکستان لائبریری کلب کے جوائنٹ سیکریٹری بھی ہیں۔

رانا مظہر حسین صاحب نے مزید بتایا ’’اس لائبریری کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں 1951ء سے لے کر اب تک کے جنگ اور ڈان اخبارات کے مکمل ریکارڈ موجود ہیں۔ جن سے نہ صرف عام لوگ بلکہ خود اخبارات کے ادارے بھی استفادہ کرتے ہیں۔ یہاں روزانہ 18 اخبارات اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں آتے ہیں لیکن فنڈ نہ ہونے کی وجہ سے تسلسل قائم نہیں رہتا۔ رقم نہ دینے کی وجہ سے اخبارات آنے بند ہوجاتے ہیں۔ حساب چکانے یا یقین دہانی کرنے کے بعد پھر جاری ہوجاتے ہیں۔ یہ لائبریری ہر خاص و عام کے لیے مقررہ اوقات میں کھلتی ہے یعنی 5 سے 9 اوریہاں آنے والوں پر لائبریری کے تمام اخبارات، رسائل اور کتب سے استفادہ کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔‘‘ رانا مظہر حسین کا کہنا ہے کہ ’’گورنمنٹ کی جانب سے لائبریری کو کوئی فنڈ نہیں ملتا ہے، کراچی کے میئر وسیم اختر صاحب نے حال ہی میں یہاں کا دورہ کیا اور لائبریری کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ڈیجیٹل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘ رانا مظہر حسین صاحب کہتے ہیں ’’اتنے قیمتی علمی خزانے کو ضرور محفوظ ہونا چاہیے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس سے استفادہ کرسکیں اور یہ کام جلد از جلد ہونا چاہیے۔ کتابوں کے علاوہ قدیم اخبارات کے ریکارڈ کو بھی مناسب طریقے سے محفوظ ہونا چاہیے کیونکہ ان کا کاغذ کافی خراب ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ ان کا کہنا ہے کہ لائبریری کے لیے ڈائریکٹر کتابوں سے شغف رکھنے والے شخص کو ہونا چاہیے نا کہ کسی ایسے شخص کو جسے کتابوں سے کوئی دلچسپی ہی نہ ہو۔ رانا صاحب کہتے ہیں کہ یہاں ڈراموں کی شوٹنگ ہونے سے پڑھنے میں خلل پڑتا ہے اور شوٹنگ سے ملنے والے پیسوں میں سے لائبریری کو کچھ نہیں دیا جاتا۔ صوبائی حکومت کو لائبریری کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ مطالعے کے لیے آنے والوں کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ’’اب مطالعہ کرنے والے کم لوگ ہی آتے ہیں، وجہ مطالعے کے رجحان میں کمی ہے۔‘‘
رانا مظہر حسین، نوجوان لائبریرین ہیں اور بچپن سے ہی کتابوں سے دلچسپی رکھتے ہیں، انہیں مطالعے کا شوق ہے، انہوں نے بہت اعتماد اور خوشدلی کے ساتھ ہمیں لائبریری کے بارے میں بتایا۔ ان سے مل کر ہمیں بہت خوشی ہوئی کہ ابھی کتابوں سے محبت کرنے والے، ان کی قدر کرنے والے لوگ موجود ہیں۔ ویل ڈن رانا مظہر حسین صاحب

 

 

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

16 − 4 =