اسلامی ریاست کا زوال اور عروج قسط نمبر1

اسلامی ریاست کا زوال اور عروج

قسط نمبر1

تحریر:نوح فیلڈمین

تلخیص و ترجمہ: سید عرفان علی یوسف

اس کتاب کو ممتاز ماہنامے ’دی اکنامسٹ‘ نے اپنے وقت کی بہترین کتابوں میں شامل کیا۔ اسے ایسوسی ایشن آف امریکن پبلشرز نے’حکومت اور سیاست ‘ کے موضوع پر فضیلت کے ’پروز ایوارڈ‘ کے لئے منتخب کیا۔ اس کتاب میں نوح فیلڈ مین نے جدید دنیا میں اسلامی نظام اور شریعہ کے نفاذ کے لئے اسلامی ریاست کے احیا کے مقبول مطالبے کو موضوع بحث بنایا ہے۔ فیلڈ مین اس دوران کلاسیکی اسلامی قانون کی جڑوں تک پہنچتا ہے جس کے تحت تمام اتھارٹی اسلامی علما اور اسکالرز کو حاصل ہے جو شریعت کی توضیح کرتے ہیں۔شرعی تضیحات کو یہ توازن اسلامی علما نے عطا کیا لیکن اس توازن کو سلطنت عثمانیہ کے آخری دور میں تباہ کردیا گیا۔ ریاستی عاملہ کو شرعی امور میں مداخلت اور فیصلہ سازی کی غیر معمولی اتھارٹی دے دی گئی اور علمائے کرام کو بے اثر کردیا گیا جس کی وجہ سے اسلامی ریاست کی تباہی کا عمل شروع ہوا۔ یہی سلطنت عثمانیہ کے زوال کا سبب تھا۔ فیلد مین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں نئی اسلامی ریاست شریعہ کے ذریعہ امت مسلمہ کو سیاسی اور قانونی انصاف اہم کرسکتی ہے لیکن یہ سرف اس صورت مین ممکن ہے جب اسلامی ملکوں میں ایسے جمہوری ادارے قائم ہوں جو آئینی اختیارات کا توازن قائم کرسکیں۔ اس کتاب کے تعارف اور دیباچہ میں فیلڈ مین نے عرب بہار کی تحریک کے پس منظر میں مصر، تیونس، لیبیا اور دیگر ملکوں میں سیاسی واقعات کا تجزیہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر اسلام پسند نئی اسلامی ریاست کو کامیاب بنانا چاہتے ہیں تو انہیں آئینی اختیارات میں توازن کے چیلنج سے نمٹنا ہوگا۔ اس کتاب کا ترجمہ سید عرفان علی یوسف نے کیا ہے۔
تعارف:
آج سے کوئی ایک ڈیڑھ عشرہ پہلے جب 11ستمبر کے حملوں کی یاد ذہن سے محو نہیں ہوئی تھی کسی نے خیال ظاہر کیا کہ سیاسی اسلام اب آئینی جمہوریت کے سانچے میں ڈھل رہا ہے۔ 2003 میں میں نے ایک کتاب ’آفٹر جہاد ‘ لکھی۔ اس کتاب میں میں نے اسی مفروضے پر زور دیا کہ سیاسی اسلام کے آئینی جمہوریت میں تبدیل ہونے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ اس کی مثال میں نے 1991 کے الجزائر کے انتخابات سے پیش کی جہاں اسلام پسند غیرمتوقع طور پر کامیاب ہوئے۔ اس کے علاوہ دیگر شہادتیں ممتاز جلاوطن اسلام پسند دانشور تیونس کے راشد غنوچی کی تحریروں اور مصر کے امام یوسف القرضاوی کے ٹیلی ویژن خطبوں اور تقریروں سے ملتی ہیں۔ اسلامی دنیا میں اسلام پسند تحریکیں سیکولر قوتوں کے خلاف جدوجہد کے دوران اسلامی جمہوریت کی تقریباً یہی تعریف پیش کرتی ہیں۔ درحقیقت اسلامی دنیا میں اسلامی ڈیموکریٹس کی اپنی سیاسی جماعتوں کے ذریعے انتخابی عمل میں کامیابی اور آئین سازی کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔ تاہم ترکی کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی یا اے کے پی اس کی پہلی سب سے بڑی مثال ہے جو انتخابی عمل کے ذریعے اقتدار میں آئی لیکن ترکی کے سیاسی حالات کے پس منظر میں اُس نے ابھی تک حقیقی اسلام کو نافذالعمل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ کسی کامیاب اسلامی جمہوری جماعت کی آئین سازی کی ابھی تک کوئی نظیر دکھائی نہیں دی۔ اے کے پی واضح طور پر اسلامی سیاسی جماعت ہے۔ تاہم ترکی کے رسمی سیکولر ازم نے اُس کو کھل کر کام کرنے سے روکے رکھا۔ افغانستان میں امریکہ کی سرپرستی میں طالبان کے اقتدار سے علیحدگی کے بعد جو حکومت قائم ہوئی وہ بھی ایک مکمل جمہوری نظام سامنے ہونے کے باوجود پرانی طرز مشاورت کو جو ’لویا جرگہ‘ کہلاتا ہے آئین کا حصہ بنانے پر مجبور ہوئی۔ لویا جرگہ میں مغربی جمہوری اور اسلامی روایات کو یکجا کردیا گیا ہے۔
عرب دنیا میں حکومتیں بادشاہتوں اور فوجی آمریتوں میں تقسیم ہیں اور اُن میں سے ہر ایک جمہوری عمل سے خوفزدہ ہے اور خود کو اقتدار سے محرومی سے بچانے کے لیے اقدامات کررہی ہیں۔ عرب دنیا میں ایسی کوئی جمہوری تحریک نہیں ابھرسکی جو پولینڈ میں کمیونزم کا تختہ الٹنے والی سولیڈیرٹی موومنٹ کا متبادل ہوتی۔ اسلام ایک خودمختار حکومت کی زیادہ اچھی شکل پیش کرتا ہے تاہم اسلامی دنیا میں جابرانہ حکومتوں نے اُس کا راستہ روکا ہوا ہے اور یہ جابرانہ حکومتیں اسلامی جمہوری اداروں کو اُبھرنے سے پہلے کچل دیتی ہیں۔ 2008 میں اس کتاب کے لکھے جانے کے 5 سال کے بعد اسلامی آئینی جمہوریت کو درپیش نئے چیلنج سامنے آئے۔ افغانستان اور عراق میں امریکہ نے ان حکومتوں کو ہٹا دیا جو اسلامی جمہوری آئینیت کے عروج کا سبب بن سکتی تھیں۔ ان ملکوں میں جو نئی حکومتیں قائم ہوئیں انہوں نے آئین سازی میں اسلامی شریعت کو آئینی جمہوریت میں مدغم کرنے کی کوشش کی۔ وہ ان کوششوں میں کس حد تک کامیاب ہوئے اس بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا لیکن اب پوری اسلامی دنیا میں نئی اسلامی ریاست کے قیام کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے اور اسے مسلم عوام میں غیرمعمولی مقبولیت حاصل ہورہی ہے۔ اس کتاب کو لکھنے سے میرا اولین مقصد اسلامی آئینی تاریخ کی توضیحات پیش کرنا ہے۔ اس کے علاوہ میں خلافت عثمانیہ کی اُن سیاسی اصلاحات کا مطالعہ بھی کرنا چاہتا تھا جو اسلامی خلافت کی جگہ آمریت یا سلطانیت کے تسلط کا سبب بنی۔ تاہم اس کتاب کو لکھتے ہوئے مجھے بہت سی رکاوٹوں کا سامنا تھا۔ کیونکہ پوری اسلامی تاریخ میں فتوحات اور قبضے کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ان فتوحات کے نتیجے میں اسلامی دنیا میں زیادہ تر بادشاہتیں اور آمرانہ حکومتیں قائم ہوئیں۔ جب کہ عرب دنیا میں اس وقت اسلام پسند جماعتوں کی جانب سے جو اسلامی آئین سازی کی تحریک چل رہی ہے اُس کی بنیاد جمہوری طرز حکومت اور قانون کی حکمرانی پر ہے۔ لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پوری اسلامی دنیا میں ایک بھی حکومت اس اصول کی بنیاد پر کام نہیں کررہی ہے۔ اسلامی دنیا میں بہت سے لوگ میرے نظریات سے اختلاف کرسکتے ہیں اور وہ افغان طالبان کی مثال پیش کرسکتے ہیں جنہوں نے کابل میں ایک اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی تھی لیکن میری ذاتی رائے میں یہاں قانون کی حکمرانی کے لیے کوئی زیادہ مؤثر بنیاد دکھائی نہیں دی۔ اس کے بعد عرب دنیا میں عرب بہار کی تحریک شروع ہوئی۔ اس کا آغاز 2011 کے اوا ئل میں ہوا اور یہ تحریک شمالی افریقہ سے شروع ہو کر یمن، شام اور بحرین تک پھیل گئی۔ تیونس اور مصر دونوں ملکوں میں انتہائی مضبوط سیکولر فوجی آمریتیں طویل عرصے سے قائم تھیں۔ لیکن جب ان کے خلاف تحریک اٹھی تو خاص طور پر تیونس میں فوج نے عوامی مظاہروں کو کچلنے سے انکار کردیا۔ اس طرح عرب بہار پہلے موسم گرما اور پھر خزاں میں تبدیل ہوگئی۔ لیبیا کے سیکولر آمر کرنل معمر قذافی کے خلاف بھی اسی نوعیت کی بغاوت ہوئی۔ جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مغربی قوتوں نے مداخلت کی اور باغیوں کو ہتھیار فراہم کیے اور دوسری جانب فضائی حملوں کے ذریعے ان کی مدد کی۔ اس کے بعد یمن میں حکمراں ڈکٹیٹر کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے جو تنگ آکر اقتدار اپنے نائب صدر کے حوالے کر کے ملک سے باہر چلا گیا۔ شام میں سیکولر آمریت کی دوسری نسل اقتدار میں تھی اور بشارالاسد نے جمہوریت کے قیام کی تحریک کو سختی سے کچلنا شروع کردیا۔ جس کا نتیجہ پرامن جمہوری تحریک کی متشدد بغاوت میں تبدیلی کی شکل میں نکلا۔ یہ تمام انقلابات اسلامی آئینی ریاست کے قیام کے لیے شروع ہوئے۔ تیونس جہاں سے عرب بہار کا آغاز ہوتا ہے اس کی سب سے بہترین مثال ہے۔ جب انقلاب کا عمل شروع ہوا تو اس پر زیادہ گہرے اثرات بائیں بازو کے انقلابیوں کے تھے جن میں اشرافیہ طبقے کا ایک بڑا حصہ شامل تھا جو فرانس کے زیر اثر تھا۔ اس وقت تیونس کو عرب دنیا کا سب سے زیادہ سیکولر ملک قرار دیا جاسکتا تھا۔ مثال کے طور پر بہت سے اسلامی ملکوں میں جہاں اسلامی شریعت بطور قانون نافذ ہو یا نہ ہو لیکن روایتی طور پر جمعہ کی چھٹی ہوتی ہے لیکن تیونس میں ہفتہ اور اتوار کی سرکاری چھٹی ہوا کرتی تھی۔ حبیب بورقیبہ تحریک آزادی کا سیکولر لیڈر تھا جو بعد میں تیونس کا صدر بن گیا۔ وہ عرب دنیا کا اہم ترین سیکولر لیڈر تھا اور اس نے اسلامی علما پر زور دیا کہ وہ رمضان کے مہینے میں روزے رکھنے پر زور نہ دیں کیونکہ اس سے ریاست کے کاموں میں رُکاوٹ ہوتی ہے۔ اگر تیونس اسلامی جمہوریت کا وطن بن سکتا تو یہ تحریک دوسرے عرب ملکوں تک آسانی سے پھیل سکتی تھی۔ یہ یاد رہے کہ تیونس میں عرب بہار کی تحریک کا آغازکے اسلام پسندوں نے نہیں بلکہ سیکولر سیاسی قیادت اور مزدور یونیئنوں کیا۔ تیونس کی سیکولرآمریت کے خلاف مظاہرے ایک پھل فروش محمد بوازیزی کی پولیس تشدد کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے خود سوزی کے نتیجے میں ہوئے۔ یہ احتجاج مزدور انجمنوں کے ذریعے پھیلا اور اس کے بعد درمیانے طبقے کے نوجوان جو سیاسی ناانصافی، بے روزگاری اور محدود اقتصادی مواقع سے پہلے ہی تنگ تھے اس تحریک میں شامل ہوگئے۔ اُس وقت تک تیونس کی سب سے بڑی اسلامی سیاسی جماعت النہدہ نے ابتدا میں اس تحریک میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ 1989 میں اس جماعت نے انتخابات میں اپنے کچھ اُمیدوار کھڑے کیے تھے لیکن تیونس کی سیکولر حکومت نے اس جماعت پر پابندی لگادی اور اس کے ممبروں کو یا تو جیلوں میں ڈال دیا یا جلاوطن ہونے پر مجبور کردیا۔ چنانچہ تیونس میں جو بھی تحریک چلتی رہی وہ زیرزمین تھی۔ راشد غنوشی اس تحریک کے اہم ترین رہنما تھے لیکن بیس سال پہلے اُن کو جلاوطن ہونے پر مجبور کردیا گیا تھا۔ چنانچہ اسلام پسندوں نے بن علی کی حکومت کے زوال میں کوئی نمایاں کردار ادا نہیں کیا۔ اہم ترین کردار فوج کا تھا جس نے حکومت کے خلاف مظاہروں میں شریک لاکھوں افراد پر گولی چلانے سے انکار کردیا جو ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کررہے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تیونس کی فوج نے دوسرے ملکوں خاص طور پر مصر کی فوج کے لیے تقلید کی ایک مثال پیش کی جو بے چینی سے سیاسی واقعات کو دیکھ رہی تھی اور گزشتہ پچاس سال سے حاصل سیاسی اثر و رسوخ و اقتدارکے چھن جانے سے خوفزدہ تھی۔ تیونس کا سیکولر ڈکٹیٹر زین العابدین بن علی 1987 سے حکمراں تھا اور اس کی عمر 75 سال ہوچکی تھی۔ تیونس میں کوئی جمہوری ادارے نہیں تھے اور نہ ہی کوئی جمہوری نظام تھا جس میں عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب کرسکیں اور یہ نمائندے حکومت سازی میں اُن کی نمائندگی کرسکیں۔ بن علی تیونس کا دوسرا صدر تھا جو ایک انقلاب کے ذریعے حکومت میں آیا تھا اور اُس نے حبیب بورقیبہ کی جگہ لی تھی جو خود تیس سال تک اقتدار میں رہا تھا۔ دونوں نے جمہوری ادارے قائم نہیں کیے۔ جب عوام نے سڑکوں پر بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے تو اُس وقت فوج حکومت پر قبضہ کرسکتی تھی لیکن اُس نے بالکل درست فیصلہ کیا اور نہ تو حکومت پر قبضہ کیا اور نہ مظاہرین کو کچلنے کی کوشش کی۔ اس کے نتیجے میں بن علی کو اقتدار سے اُترنا پڑا اور ایک نگراں حکومت قائم کردی گئی۔ اس نگراں حکومت کی نگرانی فوج کررہی تھی اس طرح فوج کو جمہوری حکومت کی دائی کہا جاسکتا ہے۔ فوج کے کمانڈر انچیف نے اعلان کیا کہ اس کے فوجی دستے اس انقلاب کی حفاظت کریں گے۔ یہ وہ دن تھا جب بن علی طیارے میں سوار ملک سے باہر جارہا تھا۔ تھوڑی سی کوشش کے بعد ایک نگراں حکومت وجود میں آگئی جس میں بہت سے سیکولر اعتدال پسند لیڈر شامل تھے۔ اس حکومت کو آئین ساز اسمبلی کے انتخابات مکمل ہونے تک قائم ہونا تھا۔ یہ پورا عمل مکمل طور پر پرامن تھا اور اس کی مثال صرف مشرقی یورپ کے رنگین انقلاب میں ملتی ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو جن پر سیکولر آمریت کے دور میں پابندی رہی تھی رجسٹریشن کرانے کی اجازت دیدی گئی اور ایک عرب ملک میں آزادانہ جمہوری انتخابات کی بنیاد پڑگئی۔ اس انتخابی عمل کے ذریعے اسلام پسند میدان میں اُترے۔ راشد غنوشی نے اپنی جلاوطنی ختم کی اور ایک ہیرو کی طرح تیونس واپس آئے۔ وہ اسلامی جمہوریت کے بارے میں اپنے نظریات کا اظہاربہت سی کتابوں اور تحریروں میں کرچکے تھے۔ یہ تحریریں اسلامی سیاسی جماعت النہدہ کے انتخابی پروگرام کی بنیاد بن گئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسلام اور جمہوریت اُصولی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ چل سکتے ہیں۔ عورتوں کو مساوات حاصل ہوسکتی ہے اور غیرمسلموں کو ایک اسلامی ریاست میں پورے اختیارات مل سکتے ہیں۔ عورتوں اور غیر مسلموں کے بارے میں اس سے پہلے تصورات کچھ اور تھے۔ سیکولر عناصر کی جانب سے غنوشی کے جمہوری آئینی تصورات کو غیرحقیقی قرار دے کر چیلنج کردیا گیا۔ اب عوام کو یہ فیصلہ کرنے کا موقع ملا کہ ان میں سے کون سے نظریات درست ہیں۔ جب انتخابات ہوئے تو ان کے نتائج توقع کے خلاف تھے۔ عوام نے لبرل سیکولر لیڈروں پر اعتبار کرنے سے انکار کردیا۔ النہدہ نے نئی آئین ساز اسمبلی میں 37 فی صد نشستیں جیتیں اور سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر اُبھری۔ النہدہ کے بعد دوسری بڑی جماعت کو صرف 9 فیصد ووٹ ملے تھے۔ النہدہ کو چھوڑ کر دیگر چار بڑی سیاسی جماعتوں نے مجموعی طور پر صرف 26 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ النہدہ کی زیادہ مؤثر تنظیم اُس کی فتح کا سبب بنی۔ اس سے ایک بات اور بھی ثابت ہوگئی کہ اسلامی جمہوریت کا تصور کتنا ہی مبہم اور غیر واضح ہو عوام سیکولرازم کے خلاف تھے اور اسلامی جمہوریت کی حمایت کرتے ہوئے اسی کو قابل عمل تصور کرتے تھے۔ اس اسمبلی کی سب سے زیادہ اہمیت یہ تھی کہ اُسے تیونس کا نیا آئین منظور کرنا تھا۔ عوام اسلامی جمہوریت کی حمایت کرتے تھے۔ اس کتاب کے لکھے جانے تک تیونس میں آئینی عمل جاری تھا۔ النہدہ نے شریعت کو قانون سازی کے لیے بنیادی مآخذ قرار دیا تھا جس کو میں اسلامی جیوڈیشل ریویو کہتا ہوں۔ اب النہدہ کو جن چیلنجوں کا سامنا ہے ان میں نئی آئین سازی کے ساتھ بہتر طرز حکمرانی اہم ترین ہیں۔ پارٹی کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ایک ایسے سیاسی کلچر میں آئینی توازن قائم کرنا ہے جو آزادی کے بعد کسی دور میں موجود نہیں رہا۔ محض اسلام کا نام لینے سے یہ آئینی توازن قائم نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے ادارہ سازی کرنی پڑتی ہے۔ ایسے ادارے قائم کرنا ضروری ہے جو ایک مؤثر اور مستحکم سیاسی حکمرانی میں توازن قائم کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ سیاسی جماعتیں ادارہ سازی کے عمل میں حصہ لیتی ہیں لیکن جو جماعتیں بہت چھوٹی ہیں وہ اس کام کو بہتر طور پر انجام نہیں دے سکتیں۔ فوج بھی کچھ کردار ادا کرسکتی ہے لیکن یہ ایک دوسری کہانی ہے کیونکہ کسی بھی صورت میں وہ اپنی مراعات اور حیثیت ترک کرنے پر راضی نہیں۔ یہ وہ کہانی ہے جو مصر میں عرب بہار کی کامیابی کے بعد نئی جمہوری انتخابات اخوان المسلمون کی بھاری اکثریت سے کامیابی اور حکومت میں آنے سے شروع ہوئی اور فوجی انقلاب کے بعد ختم ہوگئی۔ تیونس اگرچہ رقبے کے اعتبار سے عرب دنیا کا ایک چھوٹا ملک ہے لیکن اس کی سیکولرازم کی حکمرانی میں ہمیشہ اہمیت رہی اور یہ عرب دنیا میں تاریخی کردار ادا کرتا رہا۔ اس کے مقابلے میں مصر جدید دور میں عرب دنیا میں بیداری کی تحریک کا قلب رہا۔ مصر سب سے زیادہ آبادی والا عرب ملک ہے جغرافیائی اعتبار سے یہ اہم مرکزی مقام رکھتا ہے اور یہاں دو متحارب نظریاتی تحریکوں کا وطن ہے جنہوں نے گزشتہ عرب صدی میں عروج حاصل کیا یعنی عرب قومیت اور سیاسی اسلام۔ جب برطانوی سامراجیت کی غلامی کے خلاف مصر میں تحریک شروع ہوئی تو عرب لبرل آئین پسندی کو عروج حاصل ہوا۔ لیکن یہ لبرل ازم اس وقت تباہ ہو کر غیر مؤثر ہوگیا جب مختصر مدت کی آئینی بادشاہت کا تختہ مصری فوج نے اُلٹ دیا۔ اس انقلاب کا قائد جمال عبدالناصر تھا جو بعد میں عرب دنیا کا خودساختہ واحد لیڈر بن کر اُبھرا۔ اُس نے عرب دنیا میں صدارتی آمریت کی بنیادی شرائط طے کیں جن کو بعد میں شام کے حافظ الاسد، عراق کے صدام حسین،لیبیا کے قذافی اور دوسرے بہت سے لیڈروں نے اختیار کیا۔ اُس دور میں مصر میں جس پرامن جمہوری تحریک کو عروج ہوا اُس سے تیونس کی تحریک بھی متاثر ہوئی۔ قاہرہ کے وسط میں تحریر اسکوائر پر مصری فوجی سیکولر آمریت کے خلاف جو بڑے بڑے مظاہرے ہوئے اور جن میں دس سے لے کر بیس لاکھ لوگوں نے شرکت کی اپنی مثال آپ تھے اور ان میں سیکولر اور اسلامی عناصر سب شامل تھے۔ متوسط اور اعلیٰ طبقے کے نوجوانوں نے سوشل میڈیا کو انتہائی مؤثر طور پر استعمال کیا اور عوام کے تمام طبقات تک رسائی حاصل کی جنہوں نے انقلاب میں اہم کردار ادا کیا۔ چنانچہ اس کے نتیجے میں حسنی مبارک کی حکومت کی برطرفی کے مطالبہ نے زور پکڑا۔ ٹیلی ویژن، موبائل فون، کیمرے عوام کے جذبات کی ترجمانی میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ تیونس میں اسلام پسند پس منظر میں رہ کر اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ راسخ العقیدہ مسلمان تحریر اسکوائر پر دکھائی دیتے تھے لیکن اخوان المسلمون نے کئی ماہ تک ان مظاہروں میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ اخوان المسلمون کو گزشتہ 50 سال کے دوران مصر کی سیکولر فوجی آمریت نے سختی سے کچل کر رکھا تھا۔ اس کے بہت سے لیڈروں کو اس سے قبل بھی موت کی سزائیں دی گئیں اور اس کے کارکنوں کو جیلوں میں ڈالا جاتا رہا۔ اسی وجہ سے اخوان نے ابتدا میں بہت محتاط رویہ اختیار کیا۔ اخوان نے جب بھی انتخابات میں اپنے امیدوار کھڑے کیے تو اُن کو کبھی اسلامی تحریک کا نمائندہ قرار نہیں دیا گیا۔ تاہم اخوان کے پاس ایک تفصیلی سیاسی پروگرام موجود تھا۔ جس تک ہر ایک کو پمفلٹوں، کتابوں اور انٹرنیٹ کے ذریعے رسائی حاصل تھی۔ اخوان کا خیال تھا کہ مغرب اسلام کی سیاسی تحریک سے خوف زدہ ہے اور وہ اس کی ہمیشہ مخالفت کرے گا۔ اخوان المسلمون نے تقریباً ایک صدی تک بادشاہت اور آمرانہ حکومتوں کے خلاف جدوجہد کی۔ مصر میں تحریر اسکوائر میں اسلام پسند اس وقت داخل ہوئے جب سیکولر فوجی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی تھی۔ اب حکومت کی تبدیلی کے لیے ایک نگراں حکومت کے قیام کا مرحلہ درپیش تھا۔ تیونس کے مقابلے میں مصر میں فوج کا کردار مختلف تھا۔ 10 فروری 2011 کو حسنی مبارک ٹیلی ویژن پر آیا اور اعلان کیا کہ وہ ریاست کا سربراہ رہے گا لیکن اگلے ہی دن 11 فروری کو نائب صدر نے اعلان کیا کہ حسنی مبارک اب حکومت کے سربراہ نہیں ہیں اور ملک پر مصر کی مسلح افواج کی سپریم کونسل کا کنٹرول ہے۔ ایک اعتبار سے یہ ایک فوجی انقلاب تھا جو اس مقبول سیاسی تحریک کے پس منظر میں آیا۔فوج اس سیاسی تحریک کو کسی صورت میں کامیاب ہوتے نہیں دیکھ سکتی تھی۔ اس کے نتیجے میں فوج اور سیاسی قوتوں کے درمیان اقتدار میں شراکت کی پیچیدہ جدوجہد کا دور شروع ہوا۔ جس کے نتیجے میں حالات مزید بگڑ گئے۔ اخوان المسلمون اپنا جمہوری ایجنڈا لے کر آگے بڑھے۔ یوسف القرضاوی جن کا تعلق اخوان سے تھا اور جو کئی سال سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے مصر واپس آئے اور انہوں نے 18 فروری کو 10 لاکھ سے زیادہ نمازیوں کے سامنے جمعہ کا خطبہ دیا۔ القرضاوی نے صرف مسلمانوں کو مخاطب کرنے کے بجائے اس خطبے میں کہا، ’اے مسلمانو! اور قبطیو! ‘ اس کے بعد انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسلام اور جمہوریت میں مکمل مطابقت ہے۔ اس طرح مسلمانوں کے ساتھ مصر کے قدیم باشندوں یعنی قبطیوں کو مساوی درجہ دے دیا گیا۔ پہلے پارلیمانی انتخابات نومبر 2011 تا جنوری 2012 کے درمیان ہوئے۔ عرب دنیا میں ہونے والے پہلے آزادانہ انتخابات میں اسلامی ڈیموکریٹس وسیع اکثریت میں کامیاب ہوئے۔ اخوان المسلمون سے الحاق یافتہ اسلامی جماعت نے 45 فیصد نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ اس دوران تقریباً ایک چوتھائی نشستوں پر ایک اور اسلامی جمہوری جماعت النور کامیاب ہوئی۔ النور پارٹی عقیدے کے اعتبار سے سلافیوں(اہل حدیث) پر مشتمل تھی۔ النور پارٹی بھی سیاسی حکمرانی میں شریعت کے اختیارات کی سختی سے قائل تھی۔ سلافی سیاسی طور پر تمام مصریوں کو ان کے عقیدوں اور مذاہب سے قطع نظر مکمل مساوات دینے کی حمایت کرتے تھے۔ اُن کی کامیابی زیادہ ترغریب مصریوں کے ووٹوں کی مرہون منت تھی۔ جبکہ اخوان المسلمون کا تعلق متوسط طبقے سے تھا۔ جب سیاسی اقتدار اخوان المسلمون کے اسلام پسندوں کے ہاتھ میں آیا تو ان کو سخت چیلنج کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ فوج سے اختیارات چھیننا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اخوان المسلمون ایک سیاسی جماعت تھی اور عوام کے ووٹوں سے اقتدار میں آئی تھی جب کہ فوج کا کردار قطعی غیر جمہوری تھا۔ ایس سی اے ایف نے آئینی اصلاحات کا حکم جاری کیا اور پارلیمانی انتخابات سے بہت پہلے اس کی منظوری لے لی۔ اس میں صدر کے گزشتہ آمرانہ اختیارات کو بڑی حد تک کم کیا گیا تھا۔ صدارتی انتخابات 2012 میں ہونے تھے۔ فوج کے امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات تھے اور امریکہ مصر کو غیرملکی امداد دینے والا سب سے بڑا ملک تھا۔ مصر میں فوج کی حیثیت امریکہ کے اتحادی کی تھی اور امریکہ جمہوریت آنے کے بعد اپنے اس اتحادی کی پوزیشن کمزور دیکھنا پسند نہیں کرتا تھا۔ اخوان المسلمون کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں زیادہ واضح پیغام دینے کی ضرورت تھی۔ خاص طور پر اُسے بتانا تھا کہ وہ مصر اور اسرائیل کے درمیان کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کا احترام کرتی ہے یا نہیں۔ کیونکہ بہت سے امریکی حکام کو یہ خوف تھا کہ اخوان المسلمون کی حکومت اس معاہدہ کو منسوخ کردے گی۔ یہ معاہدہ 1978 میں صدر انور سادات کی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ کیا تھا۔ اس معاہدہ کو مصر کے طول و عرض میں کبھی بھی مقبولیت حاصل نہیں ہوسکی اور اخوان المسلمون کا موقف اسرائیل کے خلاف ہمیشہ جارحانہ رہا۔ امریکہ مصر کو سالانہ 1.3 ارب ڈالر امداد دیتا تھا جس کا سب سے بڑا حصہ فوجی سازوسامان پر مشتمل تھا۔ مصر کی اسرائیل پالیسی میں کوئی بھی تبدیلی ہونے کا مطلب یہ تھا کہ امریکی کانگرس مصر کو امداد کی فراہمی پر پابندی لگادے۔ اس امداد کا بنیادی فائدہ مصری فوج کو پہنچتا تھا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کی مصری فوج کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کی حامی تھی اور اس کی تنسیخ کے خلاف تھی۔ اگر اخوان المسلمون کی حکومت اس معاہدہ سے باہر نکلنے کی کوشش کرتی تو اسے سب سے پہلے فوج کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا۔ تاہم حکومت میں آنے کے بعد اخوان المسلمون نے امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد مشرق وسطیٰ میں روس کا کردار ختم ہوچکا تھا اور مصر اُس کا اتحادی نہیں رہا تھا۔ جبکہ چین کا کردار مشرق وسطیٰ میں محدود تھا۔ غزہ کی اسلامی تنظیم حماس اخوان المسلمون کی فلسطینی شاخ تھی اور الفتح یا پی ایل او کے مقابلے میں اس نے اسرائیل کے خلاف سخت گیر پالیسی اختیار کی تھی۔ جب اسرائیل پالیسی کا چیلنج سامنے آیا تو اسلامی ڈیموکریٹس کو نہایت مشکل راستوں کا انتخاب کرنا تھا۔ انہیں ایک جانب ایک غیرجانبدار خارجہ پالیسی پر زور دینا تھا اور ساتھ ہی امریکہ کے ساتھ تعلقات کا خیال بھی رکھنا تھا۔ 2003 میں جب میں نے یہ کتاب لکھی تو اس وقت اسلامی ڈیموکریٹس میری رائے میں سخت اسرائیل دشمن نہیں تھے حالانکہ بعد میں یہ خیال غلط ثابت ہوا۔ میں نے دعویٰ کیا تھا کہ عرب دنیا میں جمہوریت آنے کے بعد یہ امکان ہے کہ عربوں اور اسرائیل کے درمیان امن قائم ہو جائے۔ مصر سمیت تمام عرب ملکوں کے عام شہری فلسطینیوں سے سخت ہمدردی رکھتے تھے اور اسرائیل کے خلاف تھے۔ تاہم اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن بات چیت کی کامیابی کے لیے یہ ضروری تھا کہ فلسطینی نمائندے منتخب ہوں اور اگر کوئی امن معاہدہ ہو تو اسے منتخب عرب حکومتوں کی حمایت حاصل ہو۔ اخوان المسلمون سے یہ خوف تھا کہ وہ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کو منسوخ کردے گی لیکن اقتدار میں آنے کے بعد نہ صرف اخوان بلکہ سلافیوں نے بھی کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کا احترام کرنے کا تاثر دیا۔ اگر اخوان المسلمون کی حکومت جاری رہتی اور اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ بات چیت میں حصہ لیتی تو یہ اُمید کی جاسکتی تھی کہ اُس کی فکری اور فلسطینی شاخ حماس بھی یہی پالیسی اختیار کرتی۔ یقیناًمصر میں اگر اخوان کا اقتدار جاری رہتا تو وہ حماس پر بھی اثر انداز ہوسکتی تھی۔ فروری 2012 میں حماس کے سیاسی لیڈر اسماعیل ہنیہ نے جامعہ الازہر میں تقریر کرتے ہوئے شامی ڈکٹیٹر بشارالاسد کے خلاف تحریک چلانے والوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ یہ ایک غیرمعمولی تبدیلی تھی کیونکہ طویل عرصے تک حماس کا ہیڈکوارٹر شام میں رہا تھا اور اسے ایران اور شام کی حمایت حاصل رہی تھی۔ ظاہر ہے حماس کی پالیسی میں یہ تبدیلی کا بنیادی سبب اخوان کا مصر میں انتخابات جیت کر برسر اقتدار آنا تھا۔ اخوان نے اقتدار میں آنے کے بعد اسلامی آئینی عدالتیں قائم کرنا شروع کیں اور عام عدالتوں کے ججوں کی شرعی امور میں تربیت کے انتظامات شروع کیے۔ تاہم اخوان نے ان اقدامات کو کبھی بھی عوام کے سامنے ظاہر نہیں کیا۔ کیونکہ اس وقت اخوان المسلمون فوج کے ساتھ ایک مؤثر سیاسی تعلق قائم رکھنے کی جدوجد میں مصروف تھے۔ تاہم جب فوج نے مصر میں حکومت کا تختہ الٹ دیا تو یہ سب کچھ تباہ ہوگیا اور اخوان المسلمون کو فوج کی جانب سے اُس بدترین جبر و استبداد کا سامنا کرنا پڑا جس کا انہیں اس سے پہلے ناصر، انور سادات اور دوسرے سیکولر فوجی حکمرانوں کے زمانے میں واسطہ نہیں پڑا تھا۔ عرب بہار کے نتیجے میں دوسرے عرب ملکوں میں جو انقلاب آئے اُن کا مستقبل ابھی تک غیریقینی ہے۔ لیبیا میں جو مقبول عوامی تحریک شروع ہوئی تھی اس کا مقابلہ معمر قذافی کی فوجی قوت سے ہوا۔ قذافی نے باغیوں کو تلاش کر کے قتل کرنے کی پالیسی اختیار کی۔ اس کے نتیجے میں بدترین انسانی المیہ وجود میں آیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شہریوں کے تحفظ کے لیے طاقت استعمال کرنے کی حمایت کی۔ اس قرارداد کے نتیجے میں فرانس، برطانیہ اور امریکہ نے لیبیا میں فوجی کارروائی شروع کی۔ نیٹو کے تحت قذافی کو اقتدار سے محروم کرنے کے لیے فضائی حملے شروع کیے گئے۔ اس کے نتیجے میں باغیوں کو فتح حاصل ہوئی اور قذافی باغیوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ لیکن امریکہ فرانس اور برطانیہ کے مداخلت سے جو نیا لیبیا ظہور پذیر ہوا وہ یہ غیر واضح سیاست پر ممبنی ہے۔ باغی قوتیں زیادہ منظم نہیں ہیں۔ ملیشیائیں علاقائی اور قبائلی بنیادوں پر تقسیم ہیں اور ایک متفقہ حکومت کا قیام آسان نظر نہیں آتا جیساکہ عراق میں ہوا۔
عراق میں طویل عرصے تک فوجی کارروائی اور بمباری کے نتیجے میں صدام حسین کی حکومت کا انفراسٹرکچر بری طرح تباہ ہوگیا اور اس کے نتیجے میں بدامنی کا ایک طویل دور شروع ہوا۔ جس میں کسی حقیقی سیاسی جمہوری حکومت کا قیام آسان نہیں تھا۔ حالانکہ عملاً ہر چیز پر کنٹرول امریکی فوج کا تھا اور امن و امان کا قیام بھی نیٹو افواج کی ذمہ داری تھی۔ اس کے مقابلے میں لیبیا میں کیونکہ غیرملکی فوجیں زمین پر موجود نہیں تھیں اور جو بھی حکومت قائم ہوئی وہ آزاد تھی۔ باغیوں نے اس جنگ میں خود کامیابی حاصل نہیں کی تھی اور وہ کامیاب ہوبھی نہیں سکتے تھے۔ چنانچہ ان کی حتمی کامیابی کا انحصار بھی غیرملکی فوجی قوتوں پر تھا
جو ملک کے اندر امن و امان قائم نہیں کرسکتی تھی۔ تاہم یہاں بھی یہ بات واضح ہوگئی کہ شہری صرف ان جماعتوں کو ووٹ دینا چاہتے تھے جو اسلامی رجحانات رکھتی تھیں۔ تیونس اور مصر کے اسلامی رجحانات نہایت واضح تھے۔
یمن میں صورت حال بیحد پیچیدہ تھی۔ بن علی، حسنی مبارک اور قذافی کی طرح یمن کا صدر علی عبداﷲ صالح بوڑھا ہوچکا تھا اور اُس کے خلاف تحریک چل رہی تھی۔ اُسے حکومت کرتے ہوئے 33 سال ہوچکے تھے۔ اُس کی حکومت کے خلاف 2011 کے اوائل میں تحریک شروع ہوئی۔ صنعا اور عدن میں بیس ہزار لوگوں نے مظاہرے کئے۔ ان مظاہروں کا ایک لیڈر توکل کرمان تھا جس کو اپنے کردار پر 2011 میں نوبل امن انعام بھی دیا گیا تھا۔ اُس کا تعلق اصلاح پارٹی سے تھا جو یمن میں اخوان المسلمون کی فکری شاخ تھی لیکن وہ احمر قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ یہ قبیلہ علی عبداﷲ صالح کے خلاف تھا۔ ان مظاہروں نے علی عبداﷲ صالح کو ملک چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کردیا۔ مئی 2011 میں اُس کے تجارتی محل پر ایک بم حملہ ہوا۔ جس کے نتیجے میں وہ معمولی زخمی ہوا۔ لیکن ملک چھوڑتے ہوئے اُس نے اعلان کیا کہ وہ اقتدار نہیں چھوڑے گا۔ درحقیقت خلیجی ملکوں اور سعودی عرب کے دباؤ پر وہ اپنی حکومت نائب صدر عبدالربوہ منصور الہادی کو اقتدار دے کر ملک سے باہر چلا گیا۔ منصور الہادی فروری 2012 میں ہونے والے انتخابات میں متفقہ طور پر صدر منتخب ہوگیا۔ ہادی نے وعدہ کیا کہ وہ صرف دو سال تک اس عہدے پر رہے گا اور نیا آئین بنانے کے بعد اپنا عہدہ چھوڑ دے گا۔ یمن میں انتخابی نتائج تیونس اور مصر سے بہت مختلف تھے۔ یمن کے زیادہ تر دیہی علاقوں میں اسلامی جمہوریت کے نعروں کے مقابلے میں قبائلی سیاست کی زیادہ اہمیت تھی۔ یہی وجہ تھی کہ زیادہ تر علاقوں میں حکومت کی رٹ موجود نہیں تھی۔ یمن کی ریاست کو ملک کے زیادہ تر علاقوں میں کوئی اجارہ داری یا حاکمیت حاصل نہیں تھی۔ شام میں عرب بہار سے پیدا ہونے والے مسائل اتنے شدید تھے کہ وہ آخر تک حل نہ کیے جاسکے۔ شام میں احتجاجی تحریک دیگر ملکوں کے مقابلے میں بہت دھیمی تھی لیکن جب شام کے حکمرانوں نے اس تحریک پر تشدد شروع کیا تو یہ آہستہ آہستہ فرقہ واریت میں تبدیل ہوگئی۔ زیادہ تر مظاہرے دمشق اور الیپو میں نہیں ہوئے۔ اس تحریک کا مرکز تیسرے اور چوتھے بڑے شہر حمص اور درعا تھے۔ درعا اُردن کی سرحد پر واقع تھا۔ حافظ الاسد کا تعلق علوی فرقے سے تھا جو آبادی کا صرف 12 فیصد تھے۔ یہ شیعت کی طرح کا ایک فرقہ تھا جو بارہ اماموں میں یقین رکھتا تھا۔ حکومت کے تمام عہدوں پر علوی قابض تھے۔ ممتاز سیکولر عرب قوم پرست تحریک بعث پارٹی شام میں حکمراں تھی لیکن درحقیقت اس پر بھی علویوں کا کنٹرول تھا۔ بعث پارٹی کا بانی مائیکل افلاک ایک عیسائی تھا جس نے سیاست سے مذہب کو باہر رکھنے کے لیے یہ پارٹی بنائی اور خالص سیکولر نظریات کو فروغ دیا۔ تاہم بعث پارٹی عراق اور شام میں ڈکٹیٹروں کو اقتدار میں آنے سے نہ روک سکی بلکہ اُن کا ایک آلہ بن کر رہ گئی۔ شام میں سنی اکثریت تھی لیکن حکومت علویوں کی تھی جو تمام فوجی اور سویلین عہدوں پر قابض تھے۔ 85 فیصد سنیوں کو ان عہدوں سے محروم رکھا گیا تھا۔ دمشق اور الیپو میں مظاہروں کی عدم موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ شہری متوسط طبقے پر حکومت کی مشینری کا مکمل کنٹرول ہے۔ اس کے مقابلے میں دیہات اور قصبوں میں حکومت کے
خلاف انتہائی مؤثر تحریک چلی۔ شامی فوج نے حکومت دشمن مظاہروں کو سختی سے کچلنے کی پالیسی اختیار کی۔ حد یہ ہے کہ شامی فضائیہ نے بمباری کر کے بہت سارے دیہات اور قصبوں کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا۔ اس کے مقابلے میں تیونس میں ایسا نہیں ہوا۔ لیبیا میں بھی جونہی قذافی مارا گیا ویسے ہی فوج نے ہتھیار ڈال دیے۔ ایران شام میں اسد حکومت کا سب سے بڑا سرپرست رہا ہے۔ بظاہر شیعہ ازم ایران اور شام کے درمیان دوستی کی بنیاد نہیں ہے لیکن ایران ایک علوی ریاست کی جگہ ایک سنی ریاست کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس خیال کو لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اﷲ کی کارروائیوں سے بھی مدد ملتی ہے جو بشارالاسد کی ہر طرح کی مدد کرتی رہی ہے۔ ایران کے علاوہ شام کے روس کے ساتھ بھی گہرے تعلقات ہیں۔ روس کا صدر پیوٹن کے جی بی کے مشرق وسطیٰ کے شعبے کا سابق سربراہ ہے۔ وہ عربی زبان بول سکتا ہے۔ اس لیے اُس کے مشرق وسطیٰ میں بہت سے ملکوں سے گہرے سفارتی تعلقات رہے ہیں۔ روس نے سلامتی کونسل میں بھی شام کی حمایت کی ہے۔ جب برطانیہ فرانس اور امریکہ نے لیبیا پر بمباری کے لیے سلامتی کونسل کی منظوری طلب کی تو اس وقت روس اور چین رائے شماری سے غیر حاضر رہے کیونکہ ان کے قذافی کے ساتھ گہرے تعلقات نہیں تھے۔ لیکن سلامتی کونسل نے جب بشارالاسد کی مذمت میں قرارداد پیش کی تو روس نے اپنا ویٹو کا حق استعمال کیا۔ روس کسی ایسے حکمراں کی تبدیلی کی اجازت دینے کو تیار نہیں تھا جو اُس کا اتحادی تھا۔ اسی طرح چین نے بھی سفارتی سطح پر شام کی حمایت کی۔ چین کی پالیسی یہ تھی کہ وہ کسی بھی ملک میں مغربی ملکوں کو مداخلت کی اجازت دینے کا حامی نہیں تھا۔ چنانچہ شام میں اسد حکومت کے خاتمے کا مطلب ایران کی شکست اور علاقے میں امریکہ کی علاقائی طاقت کی پوزیشن کو مستحکم کرنا تھا۔ چین خطے میں امریکہ کی بالادستی کے خلاف تھا۔ اسی بناء پر روس کی جانب سے جب قرارداد ویٹو کیا گیا تو اسے چین کی حمایت بھی حاصل تھی۔ شام میں جب بین الاقوامی مداخلت کا خطرہ ٹل گیا تو بشارالاسد کی فوجوں نے بے فکر ہو کر مظاہرین کو کچلنا شروع کیا۔ لیکن اس کے نتیجے میں آہستہ آہستہ یہ پر امن مظاہرے تشدد کا رنگ اختیار کرتے چلے گئے اور دنیا بھر سے سنی عسکریت پسند شامی فوجوں کے خلاف جنگ کے لیے پہنچنا شروع ہو گئے۔ لیبیا میں سیاسی کارکنوں نے مظاہرے کرتے ہوئے ملیشیا کی مدد حاصل کی اور عسکریت پسندوں کی حمایت سے ملک کا بیشتر علاقہ آزاد کرالیا۔ اسی طرح شام میں مظاہرین حمص کو فتح کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ 8 لاکھ آبادی کا یہ شہر انتہائی اہم حیثیت کا حامل تھا۔ فروری اور مارچ 2012 میں شامی فوج نے حمص پر گولہ باری کی، طیاروں نے بم گرائے اور مظاہرین اور عسکریت پسندوں کو شہر چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ بعض مبصرین کا خیال تھا کہ اسد کے خلاف تحریک کامیاب ہو جائے گی لیکن یہ امیدیں پوری نہ ہوسکیں۔ بشارالاسد کو مسلسل غیرملکی امداد ملتی رہی اور وہ باغیوں کو کچلنے میں کامیاب ہوگیا۔ دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی بشارالاسد کے خلاف کوئی مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے میں ناکام رہے۔ عرب بہار کی تحریکوں کے دوران بن علی، حسنی مبارک اور قذافی کی آمریتوں کے خاتمے میں فوج نے اہم کردار ادا کیا۔ جبکہ شام میں بشارالاسد کو فوجی قوت کا مکمل کنٹرول حاصل رہا۔ بشارالاسد کے خلاف جاری جمہوری تحریک آہستہ آہستہ جہاد کی شکل اختیار
کرتی چلی گئی۔ دنیا کے مختلف حصوں سے بڑی تعداد میں سنی عسکریت پسند شام پہنچنا شروع ہوگئے اور انہوں نے ابتدا میں کافی کامیابی حاصل کی۔ شام کے بعد الجزائر اور سوڈان عرب دنیا کی بڑی آمرانہ حکومتیں ہیں۔ ان ملکوں میں اسلامی ریاست کے قیام کی تحریک طویل عرصے سے جاری ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شام میں بشارالاسد کی سیکولر حکومت کا خاتمہ ہوا تو نئے حکمران اسلام پسند ہوں گے۔ یہ امید بھی کی جاسکتی ہے کہ سیکولر آمریت کی جگہ اسلامی آمریت نہیں لے گی اور ایک مکمل جمہوری نظام قائم ہوگا۔ بہت سارے ملک ایسے ہیں کہ جہاں عرب بہار کی تحریک کے اثرات بہت کم محسوس کیے گئے۔ دو عرب ملکوں میں جہاں شاہی نظام ہے عرب بہار کی تحریک اس لیے کامیاب نہ ہوسکی کہ ان ملکوں کے بادشاہوں نے آئینی اصلاحات کا وعدہ کیا اور کچھ اصلاحات بھی کیں۔ ان ملکوں میں مراکش اور اُردن قابل ذکر ہیں۔ دونوں ملکوں کے بادشاہوں نے عرب بہار کا طوفان امنڈتے دیکھ کر اصلاحات کے عمل کو تیز کردیا۔ دونوں صورتوں میں اس کے معنی اسلامی ڈیموکریٹس کا زیادہ مؤثر اور وسعت پذیر کردار تھا۔ مراکش میں پہلی مرتبہ سلطان محمد ششم نے مقامی اخوان المسلمون کی پارٹی کو حکومت بنانے کی اجازت دی۔ حالانکہ اس سے پہلے اخوان کو کسی قسم کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں تھی۔ مراکش کے شاہ نے کافی حد تک سیاسی آزادیاں دیں لیکن خود کو کمزور نہیں ہونے دیا۔ مراکش میں بھی یہ ثابت ہوا کہ آئینی بادشاہت اور زیادہ آزادیوں کی جانب پیشرفت سے زیادہ فائدہ اسلامی ڈیموکریٹس کو ہی پہنچا۔ اخوان المسلمون کو حکومت بنانے کی اجازت دے کر شاہ نے آئینی بادشاہت کے لیے راستے کھول دیے۔ اس کے نتیجے میں مراکش میں مظاہرے کمزور پڑتے چلے گئے اور شاہی نظام مستحکم رہا۔ اُردن میں شاہ عبداﷲ نے تھوڑے بہت اصلاحی اقدامات کیے۔ اُردن میں بھی سب سے زیادہ مؤثر سیاسی جماعت اخوان المسلمون تھی جو نام تبدیل کر کے سامنے آئی تھی۔ 2011 کے اوائل میں ہونے والے مظاہروں میں اخوان المسلمون نے حصہ لیا تھا اس لیے شاہ عبداﷲ نے سزا کے طور پر اخوان کے وزیراعظم کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور اس کے بجائے دوسرے لوگوں کی تقرری کی۔ شاہ نے سیاسی اصلاحات کو تیز تر کرنے کا وعدہ کیا لیکن اس کے نتیجے میں مظاہرے رک نہیں سکے۔ 2011 میں نئے وزیراعظم نے مسلسل مظاہروں کی وجہ سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔ درحقیقت اُردن کا شاہ عبداﷲ یہ امید کررہا تھا کہ عرب بہار کے جذبہ کے تحت ہونے والے مظاہرے آہستہ آہستہ دم توڑ جائیں گے۔ شاہ عبداﷲ نے اسلامی ڈیموکریٹس کو حکومت میں شامل تو کیا لیکن انہیں سیاسی قوت سے محروم رکھا۔ یہ حکمت عملی عرب بہار سے پہلے بھی کامیاب رہی تھی اور کوئی وجہ نہیں تھی کہ آئندہ بھی کامیاب نہ ہوتی۔ شام میں جو پرتشدد ماحول پیدا ہوا وہ اُردن کے لیے یاددہانی تھا۔ اس کے نتیجے میں اُردن کے شاہ کو یہ خوف پیدا ہوا کہ سیاسی مظاہروں کے ذریعے حکومت گرائی جاسکتی ہے۔ مراکش اور اردن میں جو تحریک چلی اس کے نتیجے میں پرانے لیڈروں کی جگہ نئی سیاسی قیادت ابھر کر سامنے آئی۔ عرب دنیا میں فوجی آمریت کے مقابلے میں بادشاہت کو زیادہ بہتر نظام حکومت تسلیم کیا جاتا ہے۔مراکشی بادشاہت ایک صدی سے زیادہ قدیم ہے جبکہ اردن کے شاہ عبداﷲ تیسرے ہاشمی بادشاہ ہیں۔ فوجی آمریت کے مقابلے میں بادشاہتوں میں حکمرانوں کی
تبدیلی زیادہ آسان ہوتی ہے۔ ہر بادشاہ کو یہ عہدہ اس کے والد سے ملا ہوتا ہے۔ مراکش اور اردن دونوں ملکوں میں بادشاہوں کو مقامی قبائل کی بھرپور حمایت اور مدد حاصل رہی۔ تیل کی دولت سے مالامال بادشاہتوں میں صورت حال قطعی مختلف ہے۔ سب سے زیادہ مظاہرے بحرین میں ہوئے لیکن یہ مظاہرے شیعہ آبادی نے کیے جبکہ بادشاہ کو سنی آبادی کی حمایت اور اعتماد حاصل رہا۔ ابتدا میں ان مظاہروں میں بادشاہ کے حق حکمرانی کو براہ راست چیلنج نہیں کیا گیا لیکن جب حکومت نے مظاہرین پر تشدد کیا اور ہلاکتیں بڑھیں تو نعرے تبدیل ہونے لگے۔ بحرین کے شاہ حماد نے مظاہرین کے خلاف سخت اقدامات کیے۔ 14 مارچ 2011 کو ایک ہزار سعودی فوجی مظاہرین کے خلاف کارروائی کے لیے بحرین میں داخل ہوگئے اسی طرح شیعہ مظاہرین کے خلاف کارروائی کے لیے متحدہ عرب امارات نے اپنے پانچ سو بہترین مسلح سپاہی بحرین بھیجے۔ اس طرح خلیجی ریاستوں کے بادشاہوں اور سعودی عرب کی جانب سے ایک واضح پیغام مظاہرین کو دیا گیا کہ خلیج میں بادشاہتوں کی قوت اور اقتدار کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر کسی نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو اسے سختی سے کچل دیا جائے گا۔ خلیج میں سیاسی آئینی جدوجہد کے ہر پہلو پر تیل کی تجارت کا غلبہ ہے۔ سعودی عرب کا زیادہ تر تیل مشرقی صوبوں میں پایا جاتا ہے جہاں شیعہ اکثریت ہے۔ یہی وجہ تھی کہ سعودیوں نے بحرین میں شیعوں کے مظاہروں کو بڑھنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ انہیں خطرہ تھا کہ بحرین سے یہ شیعہ ازم سرحد عبور کر کے سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں داخل ہو جائے گا۔ سعودی عرب میں بھی چھوٹے چھوٹے شیعہ مظاہرے ہوئے لیکن ان کو طاقت کے استعمال سے کچل دیا گیا۔ عرب ملکوں میں سیکولر حکمرانوں کے خلاف جدوجہد زیادہ تر کامیاب رہی اور بہت سی سیکولر فوجی آمریتوں کے تختے الٹنے کے بعد اسلامی ڈیموکریٹس اقتدار میں آئے۔ لیکن ابھی تک کسی بھی عرب ملک میں جہاں اسلام پسند اقتدار میں ہیں کوئی غیرمعمولی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی جبکہ خلیج کی تیل سے مالا مال بادشاہتیں ان مظاہروں سے قطعی متاثر نہیں ہوئیں۔ جہاں تک اسلامی آئینی جمہوریت کے قیام کے لیے جدوجہد کا تعلق ہے تو اس کے معنی سوائے قانون کی حکمرانی کے اور کچھ نہیں اور قانون کی حکمرانی آئینی جمہوریت کے ذریعے روبہ عمل آئے گی۔ تیونس اور مصر میں جو اسلام پسند انتخابات میں کامیاب ہوئے اور جنہوں نے فوجی آمریت کے خاتمے کے بعد حکومتیں بنائیں ان کا اسلامی جمہوریت کو مستحکم کرنے کا پروگرام زیرعمل ہے۔ (فرق صرف یہ ہے کہ مصر میں ساری جدوجہد پر سیکولر فوج نے پانی پھیردیا ہے اور فوجی انقلاب لا کر اسلامی ڈیموکریٹس یعنی اخوان المسلمون کو سختی سے کچل دیا ہے)
اسلامی ریاست کا زوال اور عروج
تحریر:نوح فیلڈ مین
تلخیص و ترجمہ: سید عرفان علی یوسف
دیباچہ:
جب سلطنتیں زوال کا شکار ہوتی ہیں تو انہیں مردہ تصور کرلیا جاتا ہے۔ یہی بات حکومت کے نظام کے بارے میں ہے۔ امریکی انقلاب کے بعد سے دنیا بھر میں بادشاہتیں زوال کا شکار رہی ہیں اور اب بہت کم ایسے ملک ہیں جہاں بااختیار بادشاہ پائے جاتے ہیں۔ سوویت بلاک کا زوال کمیونزم کے لیے موت کی آواز ثابت ہوا۔ اب کوئی بھی امید نہیں کرتا کہ مارکس کے نظریات یا مارکس از م کہیں دوبارہ ظاہر ہوں گے۔ حد یہ ہے کہ چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی بھی صرف نام کی کمیونسٹ ہے۔ درایں اثناء حکمرانی کے نظاموں کی دو ممتاز مثالیں موجود ہیں جو ختم ہونے کے بعد اب پھر عروج پارہی ہیں۔ ان میں سے ایک جمہوریت ہے جو قدیم دور میں یونان کی شہری ریاستوں میں کئی سو سال تک کامیابی سے جاری رہی اور اس کے بعد صفحہ ہستی سے مٹ گئی لیکن تقریباً دو ہزار سال کے بعد یورپ میں جمہوریت کا ایک مرتبہ پھر عروج ہوا۔ جمہوریت کو نئی زندگی دینے والی یہ قومیں غیر یونانی تھیں جو قطعی مختلف حالات میں اور الگ الگ معاشروں میں بستی تھیں۔ اور دوسری مثال اسلامی ریاست کی ہے۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کے مکہ سے مدینہ ہجرت کے بعد ایک سیاسی برادری اور اسلامی ریاست کی تشکیل دنیا کی تاریخ میں پہلی جنگ عظیم واقع ہونے تک ایک بے نظیر اور عدیم المثال واقعہ تھا۔ اس وقت جس اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی گئی کوئی 1300 سال کے عرصے میں اسلامی حکومتیں دنیا کے مختلف حصوں میں قائم رہیں اور انہوں نے کئی براعظموں تک پھیلی ہوئی سلطنتیں قائم کیں۔ یہ ریاستیں وقت، جگہ اور سائز کے اعتبار سے الگ الگ تھیں لیکن ان کو کبھی الگ تصور نہیں کیا گیا۔ مسلمان حکمران اﷲ کے قانون کے مطابق حکومت کرتے تھے اور شریعت کے اصولوں اور قاعدوں کی پیروی کا دعوی کرتے تھے۔ ایک مسلم حکمران کی اولین ذمہ داری یہ تھی کہ وہ اسلامی شریعت کے مطابق حکمرانی کرے ورنہ اُس کی حکمرانی غیرقانونی اور غیر مسلمہ قرار پاتی۔ انیسویں صدی میں سلطنت عثمانیہ اسلامی دنیا میں ایک منظم اسلامی ریاست کی حیثیت رکھتی تھی۔ تاہم سلطنت عثمانیہ نے حکمرانی کے نظام میں مغربی دباؤ کے تحت اور مقامی اصلاح پسندوں کی حمایت سے بہت سے اقدامات کیے۔ اگرچہ سلطنت عثمانیہ رسمی طور پر اسلامی ہی رہی لیکن اُس کی مقننہ اور آئینی کورٹ میں بہت سے تبدیلیاں ہوگئیں جنہوں نے اس روایتی غیر تحریری آئین کی بنیادوں کو ہلادیا۔ پہلی جنگ عظیم میں شکست کے بعد جب سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو مغربی طاقتوں نے اس کے تمام علاقوں پر قبضہ کرلیا اور انہیں چھوٹے چھوٹے ملکوں میں تقسیم کردیا۔ یہ پالیسی فرانس اور برطانیہ نے اختیار کی جنہوں نے سلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد تمام علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ ترکی میں سلطنت عثمانیہ کی جگہ جو نئی ترک حکومت قائم ہوئی اُس نے خلافت کے خاتمے کا اعلان کیا اور سیکولر ازم کو اپنا مذہب قرار دیا۔ چنانچہ روایتی علامتی اور عملی طور پر اسلامی ریاست کی 1924 میں وفات ہوگئی۔ سلطنت عثمانیہ کی خلافت کے خاتمے کے کوئی 20-25 سال بعد اسلامی نظریات اور اسلامی ریاست کا دوبارہ عروج شروع ہوا۔ اس دوران برصغیر ہندو پاکستان، مصر، ایران اور دیگر اسلامی ملکوں مین مسلم اسکالروں کی ایک جماعت نے جنم لیا جو روایتی دینی مدرسوں کے بجائے مغربی جامعات کی فارغ التحصیل تھی اور قدیم و جدید دونون علوم اور فلسفون کا گہرا مطالعہ کئے ہوئے تھی۔چنانچہ ان اسکالروں نے جمہوریت کے ساتھ اسلامی ریاست کے تصور کو پیش کیا۔ اسکالروں کے اس گروہ نے اسلامی ریاست کا فلسفہ تو پیش کردیا لیکن سیاسی کامیابی نہ ہونے کی بنا پر اس کا کوئی ماڈل پیش کرنے میں ناکام رہے۔ تاہم اسلامی ریاست کے اس تصور کی رسائی اسلامی دنیا میں بہت دور دور تک ہے اور سعودی عرب بھی اس سے متاثر نظر آتا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ اُس کا اسلامی آئین خالص ترین ہے۔ ایران میں انقلاب کے ذریعہ آئینی اصلاحات ہوئیں اور دعویٰ کیا گیا کہ یہ اسلامی انقلاب ہے۔ امریکہ کی سرپرستی میں قائم ہونے والی عراق اور افغانستان کی حکومتوں نے بھی خود کو اسلامی قرار دیا۔ ان کے نئے آئین جو پہلے سیکولر بنیادوں پر تھے اب اسلامی بنیادوں پر استوار کیے گئے۔ مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک پھیلے ہوئے اسلامی ملکوں میں مسلم شہریوں کی ایک واضح اکثریت کا کہنا ہے کہ ان کے ملکوں میں شریعت کو قانون سازی کی بنیاد ہونا چاہیئے۔ پاکستان اور مصر میں وسیع اکثریت کا مطالبہ رہا ہے کہ اسلامی قانون کو قانون سازی کا واحد مآخذ ہونا چاہیئے۔ جن اسلامی ملکوں میں جمہوری انتخابات ہوتے ہیں شہریوں کی بہت بڑی تعداد اسلام پسند سیاسی جماعتوں کو ووٹ دیتی ہے۔ ان سیاسی جماعتوں کے پروگرام مختلف ملکوں میں معمولی فرق رکھتے ہیں۔ وہ جمہوری انتخابات اور بنیادی حقوق کو قبول کرتے ہیں۔ وہ اقتصادی اصلاحات کی حمایت کرتے ہیں اور کرپشن کے خاتمے کے لئے شریعت پر مبنی قوانین اور سخت اسلامی سزاؤں کے نفاذ پر زور دیتے ہیں اور شریعہ کو قانون سازی کا واحد ذریعہ تصور کرتے ہیں۔ اسلامی ریاست کے قیام کی یہ تحریک تیزی سے عروج پارہی ہے۔ نئی اسلامی ریاست کے موئیدین اور ڈیزائنرز روایتی اسلامی ریاست کو ایک عظیم شکل دینا چاہتے ہیں۔ وہ ایک جانب شریعت کی پابندی اور دوسری جانب جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ نئی اسلامی ریاست پرانی اسلامی ریاست سے مختلف ہوگی۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ تاریخ کی گھڑی کو پیچھے کی جانب نہیں گھمایا جائے گا اور اس اسلامی ریاست میں جدید دور کی تمام ضرورتوں کا خیال رکھا جائے گا۔ اسلام پسندوں کے مقاصد مذہبی بھی ہیں اور عالمگیر بھی۔ ایک جانب ان کا کہنا ہے کہ وہ اﷲ کی رضا کے مطابق انداز حکمرانی چاہتے ہیں۔ دوسری جانب وہ ایسی حکومت کا قیام چاہتے ہیں جہاں مکمل جمہوری نظام ہو۔ موجودہ اسلامی دنیا میں تمام سیاسی اداکار ایک عام ووٹر سے لے کر اشرافیہ تک اسلام کو ایک طرز حکمرانی کے لیے بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔
کیا نئی اسلامی ریاست کامیاب ہوگی؟ یہ سوال اسلامی ملکوں، ریاستوں اور تحریکوں کے قائدین کارکنوں اور اسکالروں میں زیر بحث ہے۔ اس کا جواب اس نعرے کے تجزیہ میں پنہاں ہے۔ سب سے پہلے ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ روایتی اسلامی ریاست کیا تھی اور وہ کیا وجوہ تھیں جن کی وجہ سے کئی صدیوں تک وہ تیزی سے دنیا بھر میں پھیلتی اور عروج پاتی رہی لیکن بالآخر زوال کا شکار ہوئی۔ اس کے بعد ہم دیکھیں گے کہ اب اسلامی ریاست مسلم عوام میں کتنی مقبول ہے اور اس کی کیا ہیئت اس کے اسکالرز پیش کرتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ اس اسلامی ریاست میں قدیم اسلامی ریاست کی بہت سی خوبیاں موجود ہوں۔ نئی اسلامی ریاست کو جن بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے ان کا فیصلہ خود اپنے شہریوں اور باقی ماندہ دنیا کے ساتھ ان کے طرز عمل سے ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

2 + five =