اخوّت ایک تصوّر۔ ایک تحریک

تحریر: امجد ثاقب

اٹھارہ برس پہلے وہ محض چند عورتیں تھیں۔ ایک ٹوٹے پھوٹے گھر میں‘ بیری کے ایک درخت تلے۔ لیکن اب ہزاروں خاندان‘ لاکھوں قرضے۔
اخوت اب ایک تصور نہیں تحریک بن چکی ہے۔اب یہ چند لوگوں کی دیوانگی نہیں۔ ایک ادارہ ہے۔ معاشرے کو سرمایہ دارانہ نظام کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑاجاسکتا۔جو لوگ دولت مند ہیں بنک ان کو اور دولت دیتا ہے۔ جو لوگ غریب ٗ نادار اور مفلس ہیں ان سے شودروں کاسا سلوک ہوتا ہے۔ اکیسویں صدی میں یہ تقسیم‘ معاشی امتیاز Financial Aparthied کی بدترین شکل ہے۔کائنات کے خزانوں کو کچھ لوگوں نے اپنے تصرف میں کرلیا۔ ا ن کا بس چلے تو وہ سورج کی تمازت اور ستاروں کی روشنی کے بھی دام لگادیں۔ انہوں نے شاید تخلیق کے مقاصد کو سمجھا ہی نہیں۔”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“کا اصول انسان پہ لاگو نہیں ہو سکتا۔ جو رب کا ہے وہ سب کا ہے۔ وسائل کی مساوی تقسیم‘محنت اورصلاحیت کے مطابق ہونی چاہیے۔ اگر ریاست ہی غریب اور نادار طبقوں سے چشم پوشی کرنے لگے تو اس کے وجود کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ اللہ کے رسولؐ نے کہا اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ فقر سے‘ کمی سے‘ ذلت سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم ہو۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ غریبی سے‘ کفر سے‘ فسق سے‘ دشمنی سے اور نفاق سے۔ غریب بھیک کے نہیں تعاون کے طلبگار ہیں۔ ہم انہیں بھیک دے کر بھیک کا عادی بناتے ہیں۔ وہ مال و دولت سے محروم توہیں لیکن عزت نفس سے نہیں اور ہم خیرات بانٹ کر انہیں عزتِ نفس سے بھی محروم کردیتے ہیں۔ اللہ کے رسول ؐ نے پھر فرمایا کہ غربت‘ بھیک اور سود سے بچو۔ غربت کفر تک لے جاتی ہے۔ بھیک تذلیل ہے اور سود اللہ سے کی جانے والی جنگ۔ہمیں نہ تو یہ کفر اور تذلیل گوارا ہے اور نہ ہی ہم اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے روا دار ہو سکتے ہیں۔ اخوت نے کوئی نیا کام نہیں کیا۔ اسلام کے قرضِ حسن کے انفرادی نظام کو Institutionalize کیا ہے تاکہ مادیت پرستی کے اس دور میں بھائی چارے اور امداد ِ باہمی کے اصول کو عام کیا جائے۔ مجھ سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ میرا ہمسایہ کون تھا۔ عیسائی‘ ہندو‘ یہودی‘ گورا یا کالا۔ ہاں یہ ضرور پوچھا جائے گا کہ وہ بھوکا تھا تو کیوں؟ پیاسا تھا تو کیوں؟ مجھے دو افراد کی آراء یاد آتی ہیں ایک مائیکروفنانس کی ماہر امریکی خاتون اور دوسرے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ بنگلور کے ایک پروفیسر……یہ دونوں مجھے مراکش کی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں ملے۔ ان میں سے ایک کا کہنا تھا کہ ”اخوت نے بلاسودی چھوٹے قرضوں کا ایک اچھوتا اور بے مثال نظام متعارف کرواکے دنیا میں اپنے لئے ایک انفرادی مقام حاصل کرلیا ہے۔آپ نے لوگوں سے مل جل کر ہر مکتبہ فکر، عقیدے اور کلچر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو یکساں احترام کے ساتھ مالی سہولتیں فراہم کی ہیں۔یہ بلاشبہ ایک بہترین کارنامہ ہے۔ اخوت سوسائٹی کی بہترین اقدار کی ایک عمدہ مثال ہے“۔ دوسرے نے کہا ”اخوت نے اپنی کاوشوں کو اپنی درخشاں کلچرل اقدار کے ساتھ
جوڑ رکھا ہے۔ اسی چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ یہ اقدار ضرورت مند بھائیوں کی امداد کی ہمت افزائی کرتی ہیں۔ میری خواہش ہے کہ ایک دن مجھے بھی اخوت کے دفتر آنے کا موقع ملے اور میں آپ کے اس طریقہ ئ کارکا مطالعہ کرسکوں۔مجھے یقین ہے کہ دنیا میں بے شمار ادارے اخوت سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں“۔ یہ اور ایسی اور بہت سی آراء۔ جب ہم نے اٹھارہ برس قبل اس سفر کا آغاز کیا تو کیا خبر تھی کہ اتنی بڑی منزل ہماری منتظر ہے۔ سچ ہے کہ خدا نیک اعمال کو قبول کرتا ہے۔ کوئی اس کی جانب دوقدم چلے تو وہ چار قدم بڑھاتا ہے۔ اخوت کے تصور کو اس نے شرفِ قبولیت بخش دیا۔ کیوں؟ اس لیے کہ اس میں ایثار تھا۔ دوسروں کی مدد کی جست جو۔ اس میں مواخات کی خوشبو تھی۔ چند ہزار روپے ہم کسی شام دوستوں پہ خرچ دیتے ہیں۔ انھی چند ہزار سے ایک خاندان کو خوشیاں مل سکتی ہیں۔ دینے سے دولت کم نہیں ہوتی اور بڑھتی ہے۔ یہی وہ راز ہے جو ہم بھول جاتے ہیں۔ اسی راز سے انصاف اور خوش حالی کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ ایک عورت نے کہا اخوت سے مجھے زندگی ملی۔ ایک معذور شخص نے کہا ان قرضوں سے محبت کی مہک آتی ہے۔ ایک نوجوان نے کہا اخوت تیرا شکریہ! میں جرم کی راہ سے بچ گیا۔ ایک غیر مسلم کہنے لگا‘ میں نے اخوت سے سیکھا کہ اسلام کا اصل پیغام تو رواداری ہے۔سیکڑ وں ملازمین‘ ہزاروں خاندان‘ لاکھوں قرضے۔ہر قرضہ ایک کہانی! کیا یہ سب اس امر کا ثبوت نہیں کہ اخوت اب محض ایک تصور نہیں ایک تحریک بن چکی ہے۔وہ جو فیض نے کہا:

انہی کے فیض سے بازارِ عقل روشن ہے
جو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

ten + 15 =